تونسہ کے اسپتال میں استعمال سرنجون سے بچوں کو ایڈز لگنے کا انکشاف

محمد امین نامی آٹھ سالہ بچہ ایچ آئی وی ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد انتقال کر گیا، جبکہ اس کی بہن اسماء کو بھی بعد میں وائرس کی تشخیص ہوئی

               
April 14, 2026 · قومی

تونسہ — پاکستان کے صوبہ پنجاب کے علاقے تونسہ میں بچوں میں ایچ آئی وی کیسز کے پھیلاؤ سے متعلق سنگین انکشافات سامنے آئے ہیں، جہاں ایک سرکاری اسپتال میں مبینہ طور پر غیر محفوظ طبی طریقہ کار کے باعث وائرس پھیلنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق ٹی ایچ کیو اسپتال تونسہ میں خفیہ طور پر کی گئی فلم بندی کے دوران متعدد مواقع پر سرنجوں کے دوبارہ استعمال اور غیر محفوظ انجیکشن پریکٹسز سامنے آئیں، جس سے انفیکشن کے پھیلاؤ کا خطرہ بڑھ گیا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ محمد امین نامی آٹھ سالہ بچہ ایچ آئی وی ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد انتقال کر گیا، جبکہ اس کی بہن اسماء کو بھی بعد میں وائرس کی تشخیص ہوئی۔ اہلِ خانہ کے مطابق دونوں بچوں کو معمول کے علاج کے دوران آلودہ سرنجوں کے استعمال کے باعث وائرس منتقل ہونے کا خدشہ ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق نومبر 2024 سے اکتوبر 2025 کے دوران تونسہ شہر میں 331 بچوں کے ایچ آئی وی ٹیسٹ مثبت آئے، جن میں سے متعدد کیسز میں ممکنہ وجہ آلودہ سوئیاں بتائی گئی ہیں۔

رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ خفیہ نگرانی کے دوران متعدد بار طبی عملے کو بغیر جراثیم سے پاک دستانوں کے انجیکشن لگاتے اور طبی فضلہ غیر محفوظ طریقے سے ٹھکانے لگاتے ہوئے دیکھا گیا۔

دوسری جانب اسپتال انتظامیہ نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ صورتحال کو غلط انداز میں پیش کیا جا رہا ہے، جبکہ حکام کے مطابق معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔

صحت کے ماہرین نے اس صورتحال کو انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے محفوظ انجیکشن پریکٹسز پر سختی سے عمل درآمد اور انفیکشن کنٹرول نظام کو بہتر بنانے پر زور دیا ہے۔