اسرئیلی حملے میں لبنان کے بریگیڈیئر جنرل وسام صبرا سمیت 3 اعلیٰ فوجی افسران جاں بحق
خطے میں کشیدگی کے باعث امن کوششیں خطرے میں پڑ گئیں
لبنان کے بریگیڈیئر جنرل وسام صبرا کے اسرائیلی حملے میں قتل کے حوالے سے تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فورسز نے جنوبی لبنان میں ایک فضائی حملے کے دوران لبنانی بریگیڈیئر جنرل وسام صبرا اور دو اعلیٰ رینک کے فوجیوں کو ہلاک کر دیا، جسے لبنانی ایوان صدر نے “خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی” قرار دیا ہے۔
جنرل وسام صبرا اس وقت ہلاک ہوئے جب اسرائیلی فضائی حملے نے ان کے قافلے کو کفر تبنیت اور خاردالی کے درمیان سڑک پر نشانہ بنایا۔
لبنانی فوج کے مطابق 54 سالہ صبرا بیروت میں پیدا ہوئے تھے اور تین بچوں کے والد تھے۔ دیگر ہلاک ہونے والوں کی شناخت کیپٹن ایلی خوری اور سپاہی حسین غزال کے طور پر کی گئی ہے۔
یہ واقعہ حالیہ برسوں میں لبنانی فوج پر ہونے والے سب سے مہلک حملوں میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے۔
اسرائیلی فوج نے بعد میں کہا کہ نشانہ بننے والی گاڑی “مشکوک طور پر حرکت کر رہی تھی” اور واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔
یہ قتل ایسے وقت میں ہوا ہے جب امریکہ، ایران، حزب اللہ، لبنانی حکومت اور اسرائیل کے درمیان کسی معاہدے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔
لبنانی صدر جوزف عون نے اس حملے کو “تمام حل کی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کی کوشش” قرار دیا، جبکہ وزیراعظم نواف سلام نے اسے “سنگین جرم اور لبنان اور اس کے عوام پر حملہ” قرار دیا۔