ایران کی بحری ناکہ بندی: پہلے 24 گھنٹوں میں کوئی جہاز نہ گزر سکا، سینٹ کام کا دعویٰ

مشن کی تکمیل کے لیے 12 جنگی بحری جہازوں اور طیاروں پر مشتمل بیڑے پر 10 ہزار سے زائد امریکی ملاح، میرینز اور فضائی اہلکار تعینات ہیں، بیان

               
April 14, 2026 · بام دنیا
فائل فوٹو

فائل فوٹو

واشنگٹن / دبئی: امریکی سینٹ کام نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بحری ناکہ بندی کے پہلے 24 گھنٹوں کے دوران کوئی بھی بحری جہاز امریکی حصار توڑنے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔

امریکی محکمہ دفاع کے تحت کام کرنے والے سینٹ کام کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ (ٹویٹر) پر جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ کے مشن کی تکمیل کے لیے 12 جنگی بحری جہازوں اور طیاروں پر مشتمل بیڑے پر 10 ہزار سے زائد امریکی ملاح، میرینز اور فضائی اہلکار تعینات ہیں۔

سینٹ کام کے مطابق اس آپریشن کا بنیادی مقصد ایرانی بندرگاہوں پر آنے اور وہاں سے روانہ ہونے والے تمام جہازوں کو روکنا ہے۔ بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ ناکہ بندی کا نفاذ غیر جانبداری کے ساتھ کیا جا رہا ہے۔ ہمارا مقصد صرف ان جہازوں کو متاثر کرنا ہے جو ایرانی بندرگاہوں کا رخ کر رہے ہیں یا وہاں سے نکل رہے ہیں، جبکہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے دیگر بین الاقوامی جہازوں کو ‘نقل و حمل کی مکمل آزادی’ حاصل ہوگی۔