ایران بڑا خطرہ نہیں رہا ،ترکی یا پاکستان اسرائیل کے نئے دشمن بن سکتے ہیں، اسرائیلی تجزیہ کار

اسرائیلی اخبار 'معاریو' نے اسرائیل کے مستقبل کے سب سے بڑے حریف کی نشاندہی کر دی۔

               
April 19, 2026 · بام دنیا
فائل فوٹو

فائل فوٹو

تل ابیب: اسرائیلی تجزیہ کار اور ٹیکنیشن انسٹی ٹیوٹ کے پروفیسر بواز گولانی نے دعویٰ کیا ہے کہ حالیہ جنگ اور شدید معاشی بحران کے باعث ایران اب اسرائیل کے لیے ‘بڑا خطرہ’ نہیں رہا۔ ان کے مطابق، تہران اب اسرائیل کے ‘بڑے دشمن’ کا عہدہ برقرار رکھنے کی سکت کھو چکا ہے، اور اب اس خالی جگہ کو پُر کرنے کے لیے دو اہم سنی ممالک، پاکستان یا ترکیہ کے درمیان مقابلہ نظر آ رہا ہے۔

پروفیسر گولانی کے مطابق ایران نے علی خامنہ ای کی قیادت میں تین دہائیوں تک اسرائیل کے دشمن کا کردار بخوبی نبھایا، لیکن اب وہ تھک چکا ہے۔ اب بساط الٹ رہی ہے اور اسرائیل کے نئے حریف کے طور پر ترکیہ یا پاکستان سامنے آ سکتے ہیں۔

تجزیہ کار نے مضمون میں ترک صدر رجب طیب اردوان کے سخت لہجے کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ غزہ اور شام کے معاملات پر اسرائیل اور ترکیہ کے تعلقات نچلی ترین سطح پر ہیں۔ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے حالیہ بیانات میں اردوان پر کردوں کے قتل عام اور ایرانی پراکسیز کی حمایت کا الزام لگایا، جبکہ ترکیہ نے اسرائیل پر غزہ میں نسل کشی کا الزام عائد کرتے ہوئے معاشی پابندیاں بھی لگائیں۔

دوسری جانب پاکستان، جو ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ کشیدگی میں ایک اہم ‘ثالث’ (Mediator) بن کر ابھرا ہے، اسرائیل کے لیے ایک معمہ بنا ہوا ہے۔ اسرائیلی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کے حکام اسرائیل کے سخت ناقد رہے ہیں، اور حال ہی میں پاکستانی وزیر دفاع خواجہ آصف کے تند و تیز بیانات (جس میں انہوں نے اسرائیل کو انسانیت پر بوجھ قرار دیا) نے تل ابیب میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔

بواز گولانی کا کہنا ہے کہ اسرائیل کو اب ایران کے بجائے ان دو ممالک سے نمٹنے کی حکمت عملی تیار کرنی چاہیے، کیونکہ آنے والے وقت میں مشرقِ وسطیٰ کا توازنِ قوت انہی دو دارالحکومتوں (انقرہ یا اسلام آباد) کی طرف منتقل ہو سکتا ہے۔