میرے نمائندے کل شام اسلام آباد پہنچ جائیں گے ، صدر ٹرمپ ، ایران کی خاموشی

اسلام آباد میں ہونے والا یہ مذاکرات کا دوسرا دور ہوگا، جس کا مقصد خطے میں جاری کشیدگی اور آبنائے ہرمز کے بحران کا حل نکالنا ہے ، ٹروتھ سوشل پر پیغام

April 19, 2026 · بام دنیا
فائل فوٹو

فائل فوٹو

اسلام آباد: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کی ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے ان کی ٹیم کل پیر کو اسلام آباد پہنچ رہی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری تناؤ کو کم کرنے اور امن معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے امریکی مذاکراتی ٹیم پیر کے روز پاکستان پہنچے گی۔ اسلام آباد میں ہونے والا یہ مذاکرات کا دوسرا دور ہوگا، جس کا مقصد خطے میں جاری کشیدگی اور آبنائے ہرمز کے بحران کا حل نکالنا ہے۔

صدر ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں واضح کیا کہ امریکی مندوبین کل اسلام آباد میں ایرانی حکام سے ملاقات کریں گے۔ تاہم، انہوں نے ان عہدیداروں کے نام ظاہر نہیں کیے جو اس اہم مشن پر پاکستان جا رہے ہیں۔ یاد رہے کہ مذاکرات کے پہلے دور کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس نے کی تھی، جو گزشتہ اتوار کو کسی حتمی نتیجے کے بغیر وطن واپس لوٹ گئے تھے۔

صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں ایران پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہایران نے گزشتہ روز آبنائے ہرمز میں فائرنگ کر کے جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے۔

انہوں نے انتہائی سخت لہجہ اپناتے ہوئے ایران کو خبردار کیااگر ایران نے امریکہ کی طرف سے پیش کی گئی ڈیل قبول نہ کی، تو ریاست ہائے متحدہ امریکہ ایران کے ایک ایک بجلی گھر اور ایک ایک پل کو تباہ کر دے گا۔

دوسری جانب ٹرمپ کے اعلان کو تین گھنٹے سے زیادہ گزر چکے ہیں کہ امریکی نمائندے مذاکرات کے لیے پاکستان جا رہے ہیں لیکن ابھی تک کسی بھی ایرانی عہدیدار نے اس بات کی تصدیق یا تردید نہیں کی ہے کہ آیا ایران مذاکرات کے نئے دور میں حصہ لے گا۔

دوسری جانب ایران کے پاسدران انقلاب سے منسلک دو ایرانی آؤٹ لیٹس نے ایران کی شرکت کے بارے میں شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے۔

تسنیم نیوز ایجنسی کا کہنا ہے کہ ایرانی ٹیم نے اس بات پر زور دیا ہے کہ جب تک امریکی ناکہ بندی برقرار ہے، وہ مذاکرات میں شامل نہیں ہوں گے۔

فارس نیوز ایجنسی نے تسنیم اور ایک نامعلوم ذریعے کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایران نے ابھی یہ فیصلہ کرنا ہے کہ وہ اگلے راؤنڈ میں شامل ہو گا یا نہیں تاہم فارس نے مجموعی صورتحال کو مثبت قرار نہیں دیا۔

تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ ایران ان مذاکرات میں حصہ نہیں لے گا۔ ہم ابھی بھی کسی عہدیدار کی جانب سے ایران کی پوزیشن واضح کرنے کے منتظر ہیں۔