نیتن یاہو کیلیے نئی مشکل : کرپشن کیس میں گواہی سے استثنیٰ کی درخواست مسترد
ملزم پر لازم ہے کہ وہ عدالتی تاریخوں کے مطابق اپنا شیڈول ترتیب دے۔اسٹیٹ پراسیکیوٹر آفس
فائل فوٹو
یروشلم: اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کی جانب سے اپنے خلاف جاری کرپشن ٹرائل میں پیر کے روز شیڈول گواہی کو سیکیورٹی اور سیاسی وجوہات کی بنا پر منسوخ کرنے کی درخواست پراسیکیوٹر آفس نے مسترد کر دی۔
اسرائیلی میڈیا آؤٹ لیٹ ‘ہاریٹز’ کے مطابق، وزیراعظم نیتن یاہو نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ موجودہ سیکورٹی صورتحال اور سیاسی مصروفیات کے پیش نظر انہیں گواہی دینے سے استثنیٰ دیا جائے یا اسے ملتوی کیا جائے۔ تاہم اسٹیٹ پراسیکیوٹر آفس نے اس موقف کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔
اسٹیٹ پراسیکیوٹر آفس نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ کسی بھی ایسی ہنگامی یا ٹھوس سیکیورٹی ضرورت کے بغیر جسے تبدیل نہ کیا جا سکتا ہو، ملزم پر لازم ہے کہ وہ عدالتی تاریخوں کے مطابق اپنا شیڈول ترتیب دے۔
حکام کا کہنا ہے کہ قانون کی بالادستی کے لیے ضروری ہے کہ عدالت کی جانب سے طے کردہ تاریخوں پر کارروائی کو آگے بڑھایا جائے۔
نیتن یاہو کو رشوت ستانی، دھوکہ دہی اور امانت میں خیانت جیسے سنگین الزامات کا سامنا ہے۔ یہ مقدمات طویل عرصے سے زیر سماعت ہیں اور ان کی گواہی کو اس ٹرائل کا ایک اہم مرحلہ قرار دیا جا رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پراسیکیوٹر آفس کے اس فیصلے کے بعد نیتن یاہو کے لیے قانونی اور سیاسی دباؤ میں مزید اضافہ ہو گیا ہے، کیونکہ انہیں اب جنگی حالات کے باوجود عدالت میں پیش ہو کر اپنے دفاع میں بیان ریکارڈ کرانا ہوگا۔