ٹیکس لگانے کا اختیار صرف اسمبلی کا ہے، کسی افسر کا نہیں ، اسپیکر پنجاب اسمبلی کی رولنگ
رواں مالی سال کے دوران ٹیکس کی شرح میں تبدیلی کے تمام نوٹیفکیشنز کو غیر آئینی، غیر قانونی اور کالعدم قرار دے دیا ہے۔
فائل فوٹو
لاہور (نواز طاہر) پنجاب اسمبلی نے صوبے میں رواں مالی سال کے دوران ٹیکس کی شرح میں تبدیلی کے تمام نوٹیفکیشنز کو غیر آئینی، غیر قانونی اور کالعدم قرار دے دیا ہے۔
اسپیکر ملک محمد احمد خان نے حکومتی رکن ذوالفقار علی شاہ کی تحریکِ استحقاق پر تحریری رولنگ جاری کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ٹیکس عائد کرنے کا اختیار صرف منتخب ایوان کے پاس ہے، کوئی بھی سرکاری افسر یا ایگزیکٹیو اتھارٹی اپنی مرضی سے ٹیکس لگانے کی مجاز نہیں۔
اسپیکر نے رولنگ میں قرار دیا کہ سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو سمیت کسی بھی عہدیدار کی جانب سے جاری کردہ ٹیکس نوٹیفکیشن سے اسمبلی کا استحقاق مجروح ہوا ہے۔ انہوں نے اسمبلی کے اختیارات استعمال کرتے ہوئے نئی شرحوں پر مبنی تمام ٹیکس کارروائیاں فوری طور پر معطل کر دیں اور حکومت کو 15 روز کے اندر اس حوالے سے وضاحت پیش کرنے کی ہدایت کی۔
رولنگ کے مطابق اس نوٹیفکیشن کے تحت کی جانے والی تمام وصولیاں اور اقدامات بلاجواز اور غیر قانونی ہیں۔ یہ فیصلہ اس عالمی اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ ‘نمائندگی کے بغیر کوئی ٹیکس نہیں۔اسپیکر کی اس رولنگ پر ایوان میں موجود اراکین نے ڈیسک بجا کر بھرپور خیرمقدم کیا۔
اجلاس کے دوران وزراء، پارلیمانی سیکرٹریوں اور افسران کے رویے کا بھی سخت نوٹس لیا گیا۔ سپیکر کی رولنگ سے قبل، ڈپٹی سپیکر ملک ظہیر اقبال چنڑ نے صدارت کرتے ہوئے ایوان کی کارروائی میں عدم دلچسپی پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ آئندہ غیر حاضر وزرا اور پارلیمانی سیکرٹریوں کو شوکاز نوٹسز جاری کیے جائیں گے۔غیر حاضر رکن کا ایجنڈا (بزنس) بغیر کارروائی کے نمٹایا جائے گا اور اسے ملتوی نہیں کیا جائے گا۔اسمبلی کو تماشا نہیں بننے دیا جائے گا؛ اگر ہر چیز ملتوی کرنی ہے تو اسمبلی کو بھی التوا میں رکھ دیتے ہیں۔
اسپیکر نے اسمبلی میں موجود باوردی پولیس ملازمین کو نظم و ضبط اور قواعد کی پابندی کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ قومی ترانے کے دوران باوردی اور کیپ پہنے ہوئے پولیس اہلکاروں کے لیے ‘سیلیوٹ’ کرنا لازمی ہے، اس میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔