ایران کے اسپتال بھی جنگ کا نشانہ۔بمباری سے صحت کا نظام متاثر
نومولود بچی زینب کو انتہائی نگہداشت یونٹ سے فوری طور پر ایمبولینس میں منتقل کیا گیا
ایران میں جاری جنگ کے دوران اسپتال بھی حملوں کی زد میں آ گئے ہیں، جہاں مریضوں اور طبی عملے کو شدید خطرات کا سامنا ہے۔
یکم مارچ کوخلیجِ فارس بوشہر اسپتال کے قریب میزائل حملوں کے دوران نومولود بچی زینب کو انتہائی نگہداشت یونٹ سے فوری طور پر ایمبولینس میں منتقل کیا گیا، جس دن وہ پیدا ہوئی تھی۔
دیگر نومولود بچوں کو بھی محفوظ مقام پر منتقل کرنے کے لیے عارضی طور پر پھلوں کی ٹوکریوں میں رکھ کر نکالا گیا، کیونکہ فضائی حملوں سے اسپتال کو نقصان پہنچا تھا اور وہاں رکنا ممکن نہیں رہا تھا۔
ایرانی ریڈ کراس نے ملک بھر کے اسپتالوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج جاری کی ہے، جسے “پہلے کبھی نہ دیکھی گئی” ویڈیوز قرار دیا گیا، جن میں امریکی–اسرائیلی حملوں سے ہونے والی تباہی اور مریضوں کو بچانے کے لیے طبی عملے کی قربانیاں دکھائی گئی ہیں۔
دارالحکومت تہران کے خاتم الانبیا اسپتال میں نرس ندا سلیمی کو سی سی ٹی وی میں تین نومولود بچوں کو اٹھا کر بھاگتے دیکھا گیا، جب دھماکوں سے نوزائیدہ بچوں کا وارڈ لرز اٹھا۔
گزشتہ ماہ گاندھی اسپتال کی عمارت کا اگلا حصہ قریبی شدید بمباری کے باعث مکمل طور پر تباہ ہو گیا تھا۔
ایران کی وزارت صحت کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک صحت کے نظام کو شدید نقصان پہنچا ہے، 8 اسپتال خالی کرانا پڑے جبکہ 46 طبی مراکز اور 216 ہیلتھ سینٹرز کو نقصان پہنچا ہے۔