لائیو پاک امریکہ ایران مذاکرات : ایران کا باضابطہ جواب موصول نہیں ہوا ،وفاقی وزیر اطلاعات
ایران کا فیصلہ انتہائی "فیصلہ کن" اہمیت کا حامل ہے ، میڈیا سے گفتگو
فائل فوٹو
تہران: ایران کے صدر مسعود پزیشکیان کے دفتر نے دشمن ممالک کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی قوم کے صبر اور امن پسندی کو ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے، کیونکہ “تھکے ہوؤں کو آزمانا ایک فاش غلطی ہوگی۔”
صدر ایران کے ڈپٹی کمیونیکیشن آفیسر نے مہر نیوز ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ ایرانی قوم کا انتخاب امن اور سکون ہے، لیکن دشمنوں کی یہ توقع کہ ایران خاموش رہے گا یا ہتھیار ڈال دے گا، سراسر خام خیالی ہے۔
انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ ایران نے ماضی میں بھی بہادری سے اپنا دفاع کیا ہے اور اسرائیل و امریکہ کے خلاف یہ سلسلہ جاری رہے گا۔
ایرانی عہدیدار نے مزید کہا کہ ہم نہ صرف جارحیت کرنے والے کو اس کے اقدام پر پشیمان کر دیں گے بلکہ اس کے اندر دوبارہ ایسی جرات پیدا کرنے والی بنیادوں کا بھی خاتمہ کر دیں گے۔
تہران: ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ایرانی وفد کے اس ہفتے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے نئے دور کے لیے اسلام آباد کا سفر کرنے کا ابھی تک فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔
اُنھوں نے اپنی بندرگاہوں کی امریکی بحری ناکہ بندی اور ایرانی بحری جہاز کو قبضے میں لینے کے ساتھ ساتھ صدر ٹرمپ کی ایران کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کرنے کی دھمکیوں پر تشویش کا اظہار کیا۔
اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ ’ہم نیک نیتی اور سنجیدگی کے احساس کے ساتھ اس گفت و شنید میں گئے تھے، لیکن ایک مذاکراتی فریق ہے جس میں سنجیدگی اور نیک نیتی کی کمی ہے، وہ بار بار اپنی پوزیشن تبدیل کر رہے ہیں اور جنگی جرائم کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔‘
لیکن اسماعیل بقائی نے یہ نہیں بتایا کہ مذاکرات کی میز پر واپس لانے کے لیے کون سی شرائط پوری کرنا ہوں گی۔ اُن کا کہنا تھا کہ اس پر مشاورت جاری ہے۔