ایران سے مثبت جواب ملنے تک پاکستان نے ٹرمپ کوجنگ بندی میں توسیع پر آ مادہ کر لیا
آ بنائے ہرمز کی ناکہ بندی جاری رہے گی۔ صدر ٹرمپ
امریکہ نے دوسری بار پاکستان کی تجویز مان کر جنگ بندی جاری رکھنے کا اعلان کر دیا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ نے ایران کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع اور ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
انھوں نے ٹروتھ سوشل پر جاری اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’اس حقیقت کی بنیاد پر کہ ایران کی حکومت شدید اندرونی تقسیم کا شکار ہے جو کہ غیر متوقع نہیں، فیلڈ مارشل عاصم منیر اور پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کی طرف سے ہمیں کہا گیا ہے کہ ایران پر حملے اس وقت تک روک دیے جائیں جب تک ان کے رہنما اور نمائندے ایک متفقہ تجویز پیش نہ کر دیں۔لہٰذا میں نے اپنی فوج کو ہدایت دی ہے کہ ناکہ بندی جاری رکھی جائے اور دیگر تمام پہلوؤں سے تیار اور مستعد رہا جائے۔
مزید پڑھیں:پاکستان کی امریکہ اور ایران کو جنگ بندی میں توسیع کی تجویز
ٹرمپ کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ جنگ بندی اس وقت تک جاری رہے گی جب تک ایران کی تجویز نہیں آ جاتی اور مذاکرات کسی نتیجے پر نہیں پہنچتے، چاہے وہ کسی بھی شکل میں ہوں۔
واضح رہے کہ دو ہفتے قبل امریکی صدر نے ایک الٹی میٹم جاری کیا تھا جس کے بعد ایران پر غیر معمولی طاقت سے حملے کرنے کی دھمکی دی تھی۔ 7 اپریل کو یہ ڈیڈ لائن ختم ہونے سے چند گھنٹے پہلے وزیر اعظم شہباز شریف کی درخواست پر صدر ٹرمپ نے دو ہفتے کی جنگ بندی قبول کر لی تھی، جس کے بعد اسلام آباد میں 21 گھنٹے طویل اعلی سطح مذاکرات ہوئے تھے لیکن کسی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم کر دئیے گئے۔
عارضی جنگ بندی آج بروز بدھ 22 اپریل کو ختم ہو رہی تھی۔ اس دوران اسلام آباد نے مذاکرات کا دوسرا دور منعقد کرنے کی پیش کش کرتے ہوئے مستقل جنگ بندی سمجھوتے کے لیے سفارتی کوششیں کیں۔
پاکستان کی طرف سے “اسلام آباد ٹاکس 2.0” میں شرکت کے لیے امریکی فریق رضامند تھا اور سفارت کاروں کو بھیجنے کا اعلان بھی کیا گیا۔ تاہم ،اس دوران امریکہ بحریہ نے آ بنائے ہرمز اور ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کر دی، جس کے باعث تہران کی طرف سے مذاکراتی وفد روانہ کرنے کے بارے میں کوئی پیش رفت سامنے نہیں آئی جس کے بعد جنگ دوبارہ چھڑنے کا خطرہ تھا۔
مقررہ وقت کے اختتام سے پہلے ایک بار پاکستانی قیادت نے مداخلت کرتے ہوئے دوبارہ جنگ شروع ہونے کا سلسلہ رکوانے میں کامیابی حاصل کر لی اور امریکی صدر نے ایران سے جنگ بندی جاری رکھنے کی تجویز پر آمادگی ظاہر کر دی۔