ایران مذاکرات کے لیے تیار, دھمکیاں اور وعدہ خلافی رکاوٹ ہیں: ایرانی صدر
دنیا آپ کی لامتناہی منافقانہ بیان بازی اور دعوؤں اور اعمال کے درمیان واضح تضاد کو دیکھ رہی ہے ، ایکس پر بیان
فائل فوٹو
تہران: ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے واضح کیا ہے کہ ایران ہمیشہ سے مذاکرات اور معاہدوں کا خیرمقدم کرتا رہا ہے، تاہم وعدہ خلافی، معاشی ناکہ بندی اور دھمکیاں حقیقی بات چیت کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹیں ہیں۔
سوشل میڈیا پر جاری کردہ اپنے ایک حالیہ بیان میں صدر مسعود پیزشکیان نے کہا کہ ایران کا موقف ہمیشہ سے بات چیت کے حق میں رہا ہے اور تہران آج بھی اس پر قائم ہے، لیکن بامعنی مذاکرات کے لیے ماحول کا سازگار ہونا ضروری ہے۔ انہوں نے بلاواسطہ طور پر امریکہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ عالمی برادری اب ان کے کھوکھلے دعوؤں اور منافقانہ طرزِ عمل کو پہچان چکی ہے۔
The Islamic Republic of Iran has welcomed dialogue and agreement and continues to do so. Breach of commitments, blockade and threats are main obstacles to genuine negotiations. World sees your endless hypocritical rhetoric and contradiction between claims and actions.
— Masoud Pezeshkian (@drpezeshkian) April 22, 2026
ایرانی صدر نے مزید کہا کہ دنیا آپ کی لامتناہی منافقانہ بیان بازی اور دعوؤں اور اعمال کے درمیان واضح تضاد کو دیکھ رہی ہے۔
واضح رہے کہ ایرانی صدر کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی برقرار ہے اور ایران کی جانب سے مسلسل عالمی طاقتوں کو ان کے کیے گئے وعدوں کی پاسداری اور یکطرفہ پابندیوں کے خاتمے کی یاد دہانی کرائی جا رہی ہے۔