ٹرمپ نے امریکی بحریہ کے سیکریٹری کو بھی برطرف کردیا
چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف اور آرمی چیف کو پہلے ہی ہٹایا جا چکا ہے
امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے اعلان کیا ہے کہ امریکی بحریہ کے سیکریٹری جان فیلن اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے ہیں۔ ایران جنگ کے دوران عہدہ چھوڑنے یا برطرف ہونے والے وہ 5 ویں اہم دفاعی عہدیدار ہیں۔
حکام نے بدھ کو ہونے والی اس غیر متوقع علیحدگی کی کوئی سرکاری وجہ نہیں بتائی۔ تاہم خبر رساں ادارے روئٹرز نے ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ فیلن کو عہدے سے ہٹایا گیا۔
فیلن کی رخصتی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی بحریہ ایران کے بندرگاہوں کے گرد ناکہ بندی نافذ کیے ہوئے ہے اور تہران سے منسلک جہازوں کو عالمی سطح پر نشانہ بنا رہی ہے۔ دوسری جانب ایرانی افواج آبنائے ہرمز کو محدود کیے ہوئے ہیں، جس سے عالمی ایندھن کی ترسیل متاثر ہو رہی ہے۔
امریکی فوج اس ناکہ بندی کے لیے بڑے پیمانے پر بحری وسائل پر انحصار کر رہی ہے، اور ٹرمپ انتظامیہ اسے ایران کو مذاکرات پر مجبور کرنے کی حکمت عملی کے طور پر دیکھ رہی ہے۔
روئٹرز کے مطابق فیلن کی علیحدگی پینٹاگون میں جاری وسیع تر تبدیلیوں کا حصہ ہے، جہاں پیٹ ہیگستھ کی قیادت میں اعلیٰ عسکری عہدیداروں کو ہٹایا یا تبدیل کیا جا رہا ہے۔
ان تبدیلیوں میں گزشتہ سال سی کیو براؤن کو جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین کے عہدے سے ہٹانا بھی شامل ہے، جبکہ نیول آپریشنز کے سربراہ اور فضائیہ کے نائب چیف آف اسٹاف بھی متاثر ہوئے۔
اسی ماہ کے آغاز میں ہیگستھ نے امریکی فوج کے چیف آف اسٹاف رینڈی جارج کو بھی بغیر وجہ بتائے برطرف کر دیا تھا۔
فیلن کی جگہ ہنگ کاؤ کو قائم مقام سیکریٹری مقرر کیا گیا ہے۔ کاؤ 25 سالہ بحری جنگی تجربہ رکھتے ہیں اور اس سے قبل ریاست ورجینیا سے امریکی سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان کے انتخابات میں حصہ لے چکے ہیں، تاہم کامیاب نہیں ہو سکے تھے۔