ایران کے پاس تاریخی موقع ہے وہ ڈیل کر لے، امریکی وزیر دفاع
ایران کو بامعنی اور تصدیق شدہ طریقوں سے ایٹمی ہتھیاروں کے حصول کا ارادہ ترک کرنا ہوگا، پریس بریفنگ
فوٹو سوشل میڈیا
واشنگٹن: امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے اعلان کیا ہے کہ ایران کی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی اب ایک عالمی مہم کی شکل اختیار کر چکی ہے۔
پینٹاگون میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے انکشاف کیا کہ امریکی فورسز نے حال ہی میں ایرانی “ڈارک فلیٹ” (خفیہ بیڑے) کے دو ایسے بحری جہازوں کو قبضے میں لیا ہے جو ناکہ بندی کے باضابطہ آغاز سے قبل ایرانی بندرگاہوں سے روانہ ہوئے تھے۔
امریکی وزیر دفاع نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ مکمل کنٹرول میں ہیں، نہ کچھ اندر جا سکتا ہے اور نہ باہر۔” انہوں نے مزید بتایا کہ اب تک مجموعی طور پر 34 بحری جہازوں کو ناکہ بندی کی خلاف ورزی پر واپس موڑ دیا گیا ہے۔
امریکی وزیر جنگ (سیکریٹری آف وار) پیٹ ہیگستھ نے ایران کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ تہران کے پاس مذاکرات کی میز پر عقلمندی کا مظاہرہ کرنے کے لیے ابھی موقع موجود ہے تاہم یہ ‘کھڑکی’ ہمیشہ کھلی نہیں رہے گی۔
ہیگستھ نے کہا کہ ایران کو بامعنی اور تصدیق شدہ طریقوں سے ایٹمی ہتھیاروں کے حصول کا ارادہ ترک کرنا ہوگا۔
انہوں نے واضح کیا کہ امریکہ اس حوالے سے یورپ پر انحصار نہیں کر رہا، بلکہ یہ یورپی ممالک کی اپنی ضرورت ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کو کھلا رکھیں۔
ہیگستھ کا کہنا تھایورپ کو آبنائے ہرمز کی ہم سے زیادہ ضرورت ہے۔ یہ ہماری جنگ سے زیادہ ان کی اپنی بقا کی جنگ ہے۔ ایران کے پاس تاریخی موقع ہے کہ وہ ڈیل کر لے، اب گیند تہران کے کورٹ میں ہے۔
امریکہ نے واضح کیا کہ عالمی توانائی کی ترسیل کے اس اہم راستے کی حفاظت صرف اس کی ذمہ داری نہیں، بلکہ یورپ کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
امریکی حکام کے مطابق ایران کے پاس مذاکرات کے لیے وقت محدود ہے اور اگر وہ اس ‘کھڑکی’ سے فائدہ نہیں اٹھاتا تو اسے مزید فوجی و اقتصادی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔