طبی سامان سے لدے جہازکی امریکی ضبطگی پرایرانی مندوب کا شدید احتجاج
’توسکا‘ کی ضبطگی بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، واشنگٹن انسانی جانوں سے کھیل رہا ہے: ایرانی مشن
فائل فوٹو
نیویارک : اقوام متحدہ میں ایرانی مشن نے آبنائے ہرمز میں امریکی بحری ناکہ بندی کے دوران اپنے تجارتی جہاز ’توسکا‘ (Touska) کی ضبطگی پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر جاری کردہ ایک باضابطہ بیان میں ایرانی مشن نے انکشاف کیا ہے کہ 19 اپریل کو ضبط کیا گیا جہاز ‘توسکا’ محض ایک تجارتی بحری جہاز نہیں تھا، بلکہ اس پر گردوں کے علاج کے لیے انتہائی ضروری ‘ڈائیلاسز سپلائیز’ اور دیگر طبی آلات لدے ہوئے تھے۔ ایرانی حکام کا موقف ہے کہ واشنگٹن کی جانب سے نافذ کردہ بحری ناکہ بندی کے نتیجے میں اس جہاز کو قبضے میں لینا بین الاقوامی بحری قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
ایرانی مشن نے اپنے بیان میں امریکی اقدام کو ‘غیر قانونی اور زبردستی’ پر مبنی قرار دیتے ہوئے کہا یہ عمل انسانی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنے، جہاز رانی کی آزادی کو مجروح کرنے اور نازک حالت میں موجود مریضوں کو شدید خطرات سے دوچار کرنے کے مترادف ہے۔ اس غیر قانونی فعل کے ذمہ داروں کا احتساب ہونا چاہیے۔”
واضح رہے کہ واشنگٹن نے حالیہ دنوں میں آبنائے ہرمز کے گرد سخت بحری ناکہ بندی نافذ کر رکھی ہے، جس کا مقصد ایران کی تجارتی اور فوجی نقل و حرکت کو محدود کرنا ہے۔ ایران کی جانب سے اس معاملے کو اقوام متحدہ میں اٹھانے کے بعد خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔