ایرانی وزیر خارجہ پاکستان ، عمان اور روس کے دورے پر روانہ
تہران اس دورے کے ذریعے عمان اور روس کو بھی اعتماد میں لے رہا ہے، ذرائع
فائل فوٹو
تہران: خطے میں جاری کشیدگی اور امریکہ و ایران کے درمیان براہ راست مذاکرات کی بحالی کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششیں رنگ لانے لگی ہیں۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اسلام آباد، مسقط اور ماسکو کے “بر وقت” دورے کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے، جسے عالمی مبصرین واشنگٹن اور تہران کے درمیان برف پگھلنے کی جانب ایک کلیدی پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ‘ایکس’ (سابقہ ٹویٹر) پر اپنے ایک بیان میں عباس عراقچی نے کہا کہ وہ اپنے شراکت داروں کے ساتھ دوطرفہ معاملات پر قریبی ہم آہنگی اور علاقائی صورتحال پر مشاورت کے لیے پاکستان ، عمان اور روس کے دورے پر روانہ ہو رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران کی خارجہ پالیسی میں “ہمسایہ ممالک” اولین ترجیح ہیں۔
اسلام آباد میں امریکی اور ایرانی وفود کے درمیان ممکنہ ملاقاتوں کے لیے تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔ تہران اس دورے کے ذریعے عمان اور روس کو بھی اعتماد میں لے رہا ہے تاکہ سفارتی محاذ پر ایک مشترکہ حکمت عملی اپنائی جا سکے۔
ذرائع کے مطابق عباس عراقچی کا دورہ اسلام آباد اس لحاظ سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے کہ پاکستان اس وقت امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور براہ راست مذاکرات کے لیے ثالث کا بنیادی کردار ادا کر رہا ہے۔ اسلام آباد میں ہونے والے ان مذاکرات کو “دوسرے مرحلے” کی جانب پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جس کا مقصد آبنائے ہرمز میں جاری بحری تعطل کو ختم کرنا اور خطے میں پائیدار امن کا قیام ہے۔