وائٹ ہاؤس ڈنر پر حملہ کرنے والے کی تفصیلات سامنے آگئیں

ٹام ایلین اعلیٰ تعلیم یافتہ ہے صدر ٹرمپ نے ایران جنگ سے تعلق مسترد کردی

               
April 26, 2026 · اہم خبریں, بام دنیا

واشنگٹن میں منعقدہ ‘وائٹ ہاؤس کرسپونڈنٹس ڈنر’ کے دوران فائرنگ کرنے والے حملہ آور کی شناخت اور اس کے طریقہ واردات سے متعلق اہم تفصیلات سامنے آگئی ہیں۔ امریکی حکام نے تصدیق کی ہے کہ حملہ آور ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ سافٹ ویئر انجینئر ہے، تاہم اس کے کسی بین الاقوامی گروپ یا ایران کے ساتھ تعلق کے شواہد تاحال نہیں ملے۔

عینی شاہدین اور سیکورٹی حکام کے مطابق، واقعہ واشنگٹن ہلٹن ہوٹل کے باہر سیکورٹی چیک پوائنٹ پر پیش آیا۔ 31 سالہ کول ٹامس ایلین نے ہوٹل کے اندر داخل ہونے کے لیے میٹل ڈیٹیکٹرز کے قریب سیکورٹی حصار توڑنے کی کوشش کی۔ جب سیکٹ سروس کے اہلکاروں نے اسے روکنے کی کوشش کی تو اس نے فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں ایک اہلکار زخمی ہوا تاہم بلٹ پروف جیکٹ کی وجہ سے اس کی جان بچ گئی۔

پولیس نے جوابی کارروائی کے بعد حملہ آور کو زخمی حالت میں گرفتار کر لیا۔ تلاشی کے دوران اس کے قبضے سے ایک شاٹ گن، ہینڈ گن اور متعدد چاقو برآمد ہوئے ہیں۔

حملہ آور کون ہے؟

تحقیقاتی اداروں کے مطابق ٹام ایلین کا پس منظر کسی جرائم پیشہ فرد کا نہیں بلکہ ایک پیشہ ور ماہر کا ہے:
تعلیمی قابلیت: ایلین نے کیلیفورنیا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (Caltech) جیسی نامور یونیورسٹی سے کمپیوٹر سائنس میں ماسٹرز کر رکھا ہے۔
پیشہ ورانہ زندگی: وہ ایک کمپیوٹر پروگرامر اور ویڈیو گیم ڈویلپر ہے اور ایک تعلیمی ادارے میں بطور ٹیوٹر بہترین کارکردگی کا اعزاز بھی حاصل کر چکا ہے۔
سیاسی رجحان: وہ ماضی میں ڈیموکریٹک پارٹی کو معمولی مالی عطیات بھی دے چکا ہے۔

ایران سے تعلق اور حملے کا مقصد

اس حملے کو مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ کشیدگی اور ایران کے ساتھ ممکنہ تنازع سے جوڑنے کی قیاس آرائیوں پر امریکی صدر نے اہم بیان دیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پریس کانفرنس میں واضح کیا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق اس حملے کا ایران جنگ یا کسی غیر ملکی ایجنڈے سے کوئی تعلق نظر نہیں آتا۔

صدر کا مزید کہنا تھا کہ حملہ آور بظاہر ذہنی طور پر غیر مستحکم معلوم ہوتا ہے اور اس نے “لون وولف” (تنہا حملہ آور) کے طور پر یہ کارروائی کی ہے۔ حکام اس پہلو پر بھی غور کر رہے ہیں کہ آیا اس کا اصل نشانہ صدر خود تھے، کیونکہ فائرنگ تقریب کے مقام کے بالکل قریب کی گئی تھی۔

ٹام ایلین اس وقت وفاقی پولیس کی تحویل میں ہے جہاں اس سے مزید تفتیش کی جا رہی ہے۔ اس پر وفاقی اہلکار پر قاتلانہ حملے اور غیر قانونی اسلحہ رکھنے سمیت متعدد سنگین دفعات کے تحت مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ واشنگٹن میں اس واقعے کے بعد سیکورٹی کے انتظامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں۔