2سال سے پاکستان میں ایڈزکنٹرول کی گرانٹ غیر سرکاری اداروں کے پاس جانے کا انکشاف

یواین ڈی پی اور نئی زندگی این جی اوشامل۔ استعمال کی تفصیلات فراہم کرنے سے انکار

               

 

وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے انکشاف کیا ہے کہ 2024 تا 2026 کے دوران پاکستان کو ایچ آئی وی،ایڈزکنٹرول کی مد میں 65 ملین امریکی ڈالر فراہم کیے گئے، جن میں سے صرف3اعشاریہ 9 ملین ڈالر وزارت صحت کو دیے گئے ۔ 61اعشاریہ 1ملین ڈالر یو این ڈی پی اور “نئی زندگی” نامی این جی او کو جاری کیے گئے۔

مصطفیٰ کمال نے کہا کہ این جی اوز کی جانب سے فنڈز کے استعمال کی تفصیلات فراہم نہیں کی جا رہیں اور وزارت کو اس حوالے سے معلومات دینے سے انکار کیا جا رہا ہے، جس پر تشویش ہے۔

وزیرصحت کے مطابق 2020 میں ملک بھر کے 49 مراکز پر 37 ہزار 944 شہریوں کی سکریننگ کی گئی جن میں سے 6 ہزار 910 کیسز مثبت آئے۔ 2025 میں ٹیسٹنگ سینٹرز کی تعداد 97 کر دی گئی، جہاں 3 لاکھ 74 ہزار 126 ٹیسٹ کیے گئے اور 14 ہزار 182 کیسز مثبت سامنے آئےانہوں نے بتایا کہ ایچ آئی وی کیسز کا گراف مستحکم ہے اور اچانک اضافہ نہیں ہوا۔ اس وقت ملک میں رجسٹرڈ کیسز کی تعداد 84 ہزار ہے، جن میں سے 61 ہزار افراد زیر علاج ہیں ، باقی مریضوں کا سراغ نہیں مل سکا۔

وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ ایچ آئی وی/ایڈز لاعلاج مرض نہیں بلکہ اس کا علاج ممکن ہے اور سرکاری مراکز پر مفت دستیاب ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس مریض کا علاج شروع ہو جائے، اس سے وائرس کے پھیلاؤ کا خطرہ بھی کم ہو جاتا ہے۔ویسے پاکستان میں آبادی کے لحاظ سے 3 لاکھ 69 ہزار کیسز ہونے چاہیے تھے، تاہم موجودہ شرح0اعشاریہ 1فیصد ہے جو عالمی تناسب0اعشاریہ5 فیصد سے کم ہے۔

انہوں نے تونسہ میں ایچ آئی وی کیسز سے متعلق خبروں کو پرانا قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ 2024 کا واقعہ تھا اور حالیہ عرصے میں کوئی نیا کیس رپورٹ نہیں ہوا۔ اسلام آباد کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ یہاں 618 کیسز رجسٹرڈ ہیں، جن میں سے 208 مقامی اور ، 408 کیسز دیگر علاقوں سے ریفر ہو کر آئے ہیں، جن میں راولپنڈی، کے پی، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر شامل ہیں۔