ایرانی فوج کی خلیج فارس میں امریکی اڈے پر حملے کی تصدیق

ایران نے امریکی فوجی اڈوں اور سازوسامان کو جو نقصان پہنچایا،

               
April 29, 2026 · بام دنیا

ایرانی فوج کے ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ ایرانی ایف 5 لڑاکا طیاروں نے خلیج فارس کے خطے میں ایک امریکی فوجی اڈے کو ’کامیابی سے‘ نشانہ بنایا۔

28 اپریل کو ایرانی سرکاری نیوز چینل آئی آر آئی این این پر براہ راست گفتگو کے دوران بریگیڈیئر جنرل محمد اکرمینیا نے این بی سی کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیا، جس میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ تنازع کے دوران ایران نے امریکی فوجی اڈوں اور سازوسامان کو جو نقصان پہنچایا، وہ پہلے دی گئی رپورٹس سے کہیں زیادہ تھا۔

25 اپریل کو شائع ہونے والی این بی سی کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ایران نے خطے کے سات ممالک میں موجود 100 سے زائد امریکی اہداف پر حملے کیے۔

اس رپورٹ کے مطابق، ایک ایرانی ایف 5 لڑاکا طیارے نے کویت میں واقع کیمپ بیورنگ پر بمباری کی اور اڈے کے فضائی دفاعی نظام کو چیرتے ہوئے اندر تک پہنچ گیا، جو اس سخت حفاظتی انتظامات والے اڈے کے دفاع میں ایک بڑی ناکامی تصور کی جائے گی۔

ایرانی کمانڈر نے کہا کہ ’ایف 5 لڑاکا طیارے امریکی فضائی دفاع کی مختلف تہوں کو عبور کرنے میں کامیاب ہوئے اور متعلقہ اڈے کو درست نشانہ بنایا۔ اگر منفرد نہ بھی کہیں تو بھی اسے ایک کامیاب اور نایاب کارروائی کے طور پر جانچا گیا ہے۔‘

اگرچہ این بی سی کی رپورٹ میں ایک ہی ایرانی لڑاکا طیارے کا ذکر کیا گیا ہے، تاہم فوجی ترجمان نے جمع کا صیغہ استعمال کیا اور یہ واضح نہیں کیا کہ یہ حملہ کب ہوا۔

بی بی سی فارسی کے مطابق، این بی سی نے بتایا کہ ایف 5 کا یہ حملہ جنگ کے آغاز کے ابتدائی گھنٹوں میں ہوا تھا۔ اکرمینیا نے یہ بھی واضح نہیں کیا کہ آیا پائلٹ بحفاظت واپس آئے یا نہیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ جنگ کے دوران ایران کی باقاعدہ فوج اور پاسداران انقلاب کے درمیان ہم آہنگی اور تعاون پہلے سے کہیں زیادہ رہا۔ ان کے مطابق مشترکہ کارروائیاں کی گئیں جن میں آبنائے ہرمز کے مشرقی حصے کا کنٹرول باقاعدہ فوج کے پاس تھا جبکہ مغربی حصے میں پاسداران انقلاب کی عمل داری تھی اور یہ سب مکمل طور پر مربوط کمان کے تحت ہوا۔