ایران جنگ کے 60 دن مکمل، کیا امریکہ اب جنگ جاری رکھے گا یا روک دے گا ؟

امریکی قانون سازوں کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا وہ اس جنگ کی حمایت کریں گے ، مخالفت کریں گے یا خاموش رہیں گے ۔

               
April 29, 2026 · بام دنیا
فائل فوٹو

فائل فوٹو

واشنگٹن: امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جاری جنگ کو 60 دن مکمل ہونے والے ہیں ، جس کے بعد امریکی قانون سازوں کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ اس جنگ کی حمایت کریں گے ، مخالفت کریں گے یا خاموش رہیں گے ۔

ماہرین کے مطابق، اصولی طور پر قانون سازوں کو اس سوال کا سامنا نہیں ہونا چاہیے تھا ۔ امریکی آئین صدر کے جنگ شروع کرنے کے اختیارات کو محدود کرتا ہے۔ مزید برآں 1973 میں منظور کیا گیا قانون، جسے جنگی طاقتوں کا ایکٹ کہا جاتا ہے، اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ صدر 60 دن کے بعد فوجی کارروائی جاری رکھنے کے لیے کانگریس سے باقاعدہ اجازت حاصل کریں، ورنہ کارروائی روک دیں ۔

تاہم ماہر ڈیوڈجانوسکی کے مطابق، امریکی صدر دہائیوں سے اپنے جنگی اختیارات کی حدود کو بڑھاتے رہے اور بعض اوقات 60 دن کی مدت کو بھی نظر انداز کیاگیا ۔
ایسے مواقع پر کانگریس اکثر خاموش رہتی ہے ۔

چونکہ امریکی وفاقی عدالتیں عموماً جنگی معاملات میں مداخلت سے گریز کرتی رہی، اس لیے یہ واضح نہیں کہ اس بار 60 دن کی مدت مکمل ہونے پر کیا نتائج سامنے آئیں گے ۔
یہ مدت یکم مئی کو مکمل ہوگی، جو اس دن سے 60 دن بنتے ہیں جب ڈونلڈ ٹرمپ نے باضابطہ طور پر کانگریس کو امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں سے آگاہ کیا گیا تھا۔ یہ حملے 28 فروری کو شروع ہوئے تھے ۔