ایران کے خلاف نئی فوجی کارروائی پرغور۔ تیل کی قیمتیں4سال میں بلندترین
اوپیک پلس اتحاد اتوار کو تیل کی پیداوار میں معمولی اضافے پر اتفاق کرسکتاہے۔
تیل کی قیمتیں 4سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔بین الاقوامی تیل کا معیار برینٹ کروڈ راتوں رات7اعشاریہ 1 فیصد تک بڑھ گیا اور 126 ڈالر فی بیرل سے زیادہ ہو گیا۔ کی وجہ ایک ایسی رپورٹ کو قرار دیا جا رہا ہے، جس میں امریکا کی جانب سے ایران کے ساتھ تعطل ختم کرنے اور مذاکرات بحال کرنے کے لیے ممکنہ نئی فوجی کارروائی پر غور کا ذکر کیا گیا ہے۔اس خبر نے مشرقِ وسطیٰ سے تیل کی سپلائی میں مزید رکاوٹوں کے خدشات کو بڑھا دیا ہے۔
یہ مسلسل نویں روز اضافہ ہے، اس سے پہلے سیشن میں بھی قیمتوں میں 6اعشاریہ1 فیصد اضافہ ہوا تھا۔
امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل بھی 3اعشاریہ20 ڈالر یا 2اعشاریہ99 فیصد اضافے کے ساتھ 110اعشاریہ08 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا، اس سے پہلے سیشن میں 7 فیصد اضافہ ہوا تھا۔ دونوں بینچ مارکس مسلسل چوتھے ماہ اضافے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔امریکہ میں خام تیل کی قیمت2اعشاریہ 3 فیصد اضافے سے تقریباً 109 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق اوپیک پلس اتحاد اتوار کو تیل کی پیداوار میں معمولی اضافہ (تقریباً 188 ہزار بیرل یومیہ) پر اتفاق کر سکتا ہے، تاہم ماہرین کے مطابق یہ اضافہ عالمی طلب کے مقابلے میں محدود ہے۔
ادھر امریکی فوج ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف ممکنہ نئی کارروائی کے بارے میں بریفنگ دینے کی تیاری کر رہی ہے۔وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار کے مطابق ٹرمپ نے تیل کمپنیوں سے بھی بات کی ہے تاکہ اگر ایران کی بندرگاہوں پر امریکی کارروائی طویل ہو جائے تو اس کے اثرات کو کم کیا جا سکے، جس سے مارکیٹ میں سپلائی میں طویل رکاوٹ کے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔