انگلینڈ میں قادیانی کمپاؤنڈ پر 500 سے زائد پولیس اہلکاروں کا چھاپہ ، 9 افراد گرفتار
گرفتار افراد پر زیادتی، جبری شادی، انسانی اسمگلنگ اور جدید غلامی کے الزامات عائد
فائل فوٹو
لندن: برطانوی قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے انگلینڈ کے علاقے ‘کرو’ (Crewe) میں واقع ایک مذہبی گروپ کے کمپاؤنڈ پر چھاپہ مار کر 9 افراد کو سنگین جرائم کے شبہ میں گرفتار کر لیا ہے۔
بدھ، 29 اپریل 2026 کو ہونے والے اس میگا آپریشن میں 500 سے زائد پولیس افسران نے حصہ لیا۔ کارروائی کا نشانہ “احمدی ریلیجن آف پیس اینڈ لائٹ” (ARPOL) نامی تنظیم کی جائیداد بنی۔ پولیس کے مطابق یہ کارروائی طویل عرصے سے جاری تحقیقات کا نتیجہ تھی۔
پولیس نے کہا کہ انہیں مارچ میں ایک خاتون کی طرف سے لگائے گئے الزامات کے بارے میں معلوم ہوا جو پہلے سنگین جنسی جرائم، جبری شادی اور جدید غلامی کے گروپ کا حصہ تھی جو مبینہ طور پر 2023 میں ہوئی تھی۔ تمام گرفتاریاں اس خاتون کی طرف سے لگائے گئے الزامات سے متعلق تھیں۔
🇬🇧 انگلینڈ میں قادیانی مذہبی کمپاؤنڈ پر 500 سے زائد پولیس افسران نے چھاپہ مارا
Ahmadi Religion of Peace and Light (ARPOL) کے 9 اراکین کو انسانی اسمگلنگ، ریپ، زبردستی شادی اور جدید غلامی کے الزامات میں گرفتار کر لیا گیا۔
اس جائیداد میں 150 افراد رہائش پذیر تھے جن میں 56 بچے بھی… pic.twitter.com/0i6A7u59wH
— Basit Alvi (@bpk69) April 30, 2026
گرفتار کیے گئے افراد پر سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں جن میں غیر قانونی طور پر لوگوں کو ملک میں لانا اور منتقل کرنا،ریپ اور جنسی استحصال کے متعدد واقعات، کمپاؤنڈ کے اندر اراکین کو مرضی کے خلاف نکاح پر مجبور کرنا اور فراد کو محبوس رکھ کر ان سے جبری مشقت لینا اور بنیادی انسانی حقوق سے محروم رکھنا شامل ہیں
تلاشی کے دوران پولیس کو معلوم ہوا کہ اس جائیداد میں 150 افراد رہائش پذیر تھے، جنہیں بظاہر ایک مخصوص مذہبی ضابطے کے تحت وہاں رکھا گیا تھا۔ تشویشناک بات یہ ہے کہ ان میں 56 بچے بھی شامل ہیں، جنہیں اب حفاظتی تحویل میں لے کر سوشل سروسز کے حوالے کر دیا گیا ہے۔
پولیس نے بتایا کہ گرفتار ہونے والوں میں دو امریکی مرد اور ایک خاتون، دو میکسیکن مرد، ایک برطانوی مرد، ایک اطالوی خاتون، ایک ہسپانوی مرد، ایک سویڈش خاتون اور ایک مصری مرد شامل ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ہماری ترجیح اس وقت کمپاؤنڈ سے بچائے گئے افراد، بالخصوص بچوں کی حفاظت اور بحالی ہے۔ یہ ایک پیچیدہ نیٹ ورک ہے جس کی تحقیقات جاری ہیں تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ یہ استحصال کتنے عرصے سے جاری تھا۔
مقامی حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس حوالے سے کسی بھی قسم کی معلومات ہونے کی صورت میں پولیس سے تعاون کریں، جبکہ علاقے میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات برقرار ہیں۔۔