ایران: زنجان میں بارودی مواد پھٹنے سے پاسدارانِ انقلاب کے 14 اہلکار جاں بحق

پاسدارانِ انقلاب کا ایک خصوصی یونٹ علاقے کو غیر پٹھے ہوئے ہتھیاروں اور بارودی مواد سے پاک کرنے کی مہم میں مصروف تھا۔

               
May 1, 2026 · بام دنیا
فائل فوٹو

فائل فوٹو

تہران: ایران کے شمال مغربی صوبے زنجان میں غیر مٹھے ہوئے بارودی مواد کو ناکارہ بنانے کے دوران ایک بڑے دھماکے کے نتیجے میں پاسدارانِ انقلاب کے 14 اہلکار جاں بحق اور 2 زخمی ہو گئے۔

ایرانی خبر رساں ادارے ‘فارس نیوز’ کے مطابق، یہ افسوسناک واقعہ اس وقت پیش آیا جب پاسدارانِ انقلاب کا ایک خصوصی یونٹ علاقے کو غیر پٹھے ہوئے ہتھیاروں اور بارودی مواد سے پاک کرنے کی مہم میں مصروف تھا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ آپریشن اس لیے ضروری تھا کیونکہ اس علاقے میں موجود غیر پٹھے ہوئے بارودی مواد کی وجہ سے تقریباً 1,200 ہیکٹر زرعی اراضی ناقابلِ استعمال ہو چکی تھی اور مقامی کسانوں کے لیے شدید خطرہ بنی ہوئی تھی۔

حکام کے مطابق جاں بحق ہونے والے اہلکار اس خصوصی یونٹ کا حصہ تھے جو خطرناک دھماکہ خیز مواد کو ٹھکانے لگانے میں مہارت رکھتی ہے۔ زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جہاں ان کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔

واضح رہے کہ ایران کے مختلف سرحدی اور اندرونی علاقوں میں ماضی کی جنگوں یا حالیہ کشیدگی کے نتیجے میں گرا ہوا غیر مٹھا بارودی مواد انسانی زندگیوں اور معیشت کے لیے ایک بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔