ایران میں اسرائیلی خفیہ ایجنسی سے تعلق کے الزام میں 3 افراد کو پھانسی

جنوری احتجاجی ہنگاموں اور سکیورٹی اہلکار کے قتل میں ملوث ہونے کے الزامات ہیں

               
  May 4, 2026 · بام دنیا

ایران نے تین افراد کو پھانسی دے دی ہے جن پر اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے ساتھ تعاون اور ملک کے شمال مشرقی شہر مشہد میں حکومت مخالف احتجاج کے دوران پرتشدد ہنگامہ آرائی پھیلانے کا الزام تھا۔
نیم سرکاری خبر رساں ادارے فارس کے مطابق ان افراد کی شناخت مہدی رسولی اور محمدرضا میری کے طور پر کی گئی ہے جنہیں “موساد سے منسلک عناصر” قرار دیا گیا، جبکہ تیسرے شخص ابراہیم دولت آبادی کو مشہد کے طبرسی علاقے میں ہنگاموں کا رہنما بتایا گیا۔
رپورٹ کے مطابق رسولی اور میری پر الزام تھا کہ انہوں نے سکیورٹی فورس کے اہلکار حمیدرضا یوسفی‌نژاد کے قتل میں براہ راست کردار ادا کیا۔ ان پر عوامی املاک کو نقصان پہنچانے، ملکی سلامتی کے خلاف جرائم میں ملوث ہونے، مولوتوف کاک ٹیلز کے استعمال اور دیسی ساختہ ہتھیار بنانے اور رکھنے کے الزامات بھی عائد کیے گئے۔
ایرانی حکام کے مطابق ابراہیم دولت آبادی پر الزام تھا کہ وہ 250 سے 300 مسلح مظاہرین کو موقع پر لے کر آیا، جس کے نتیجے میں جھڑپیں ہوئیں اور کئی سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے، جبکہ ایک بینک اور نیم فوجی فورس بسیج کے فوجی اڈے سمیت سرکاری و نجی املاک کو بھی نقصان پہنچا۔