بحیرہ عمان میں کشیدگی: ایرانی بحریہ کی امریکی بیڑے پر انتباہی فائرنگ، ہرمز میں داخلے کی کوشش ناکام

امریکی تباہ کن جہازوں نے بحیرہ عمان میں اپنے ریڈار بند کر دیے تھے تاکہ وہ خفیہ طور پر آبنائے ہرمز کی جانب پیش قدمی کر سکیں , ایرانی فوج

               
  May 4, 2026 · بام دنیا
فائل فوٹو

فائل فوٹو

تہران : خلیج ہرمز اور بحیرہ عمان میں ایک بار پھر حالات کشیدہ ہو گئے ہیں۔ ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی بحریہ نے آبنائے ہرمز کے قریب امریکی تباہ کن بحری جہازوں کی نقل و حرکت مانیٹر کرنے کے بعد ان پر انتباہی فائرنگ کی ہے اور انہیں پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا ہے۔

ایرانی فوج کے تعلقات عامہ کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق امریکی تباہ کن جہازوں نے بحیرہ عمان میں اپنے ریڈار بند کر دیے تھے تاکہ وہ خفیہ طور پر آبنائے ہرمز کی جانب پیش قدمی کر سکیں۔ تاہم، جیسے ہی انہوں نے ریڈار دوبارہ آن کیے، ایرانی بحریہ کے دفاعی نظام نے انہیں فوری طور پر ٹریس کر لیا۔

رپورٹس کے مطابق ایرانی بحریہ نے پہلے ریڈیو کے ذریعے امریکی جہازوں کو خبردار کیا کہ ان کی یہ حرکت موجودہ جنگ بندی کی خلاف ورزی ہے اور اس کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔

امریکی جہازوں کی جانب سے وارننگ کو نظر انداز کیے جانے پر ایرانی فورسز نے ایکشن لیا۔ایرانی بحریہ نے دشمن کے بحری جہازوں کے قریب کروز میزائل، راکٹ اور جنگی ڈرونز کے ذریعے انتباہی شاٹس فائر کیے، جس کے بعد امریکی بیڑے کو پیچھے ہٹنا پڑا۔

ایران نے اس کارروائی کو اپنے دفاع کا قانونی حق قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کی سکیورٹی ان کی اولین ترجیح ہے۔ تہران کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ اس طرح کی خطرناک مہم جوئی کے تمام تر نتائج کی ذمہ داری “امریکی-صیہونی دشمن” پر ہو گی۔