آبنائے ہرمز میں جہاز پر آگ لگنے واقعے کی تحقیقات ہوں گی۔جنوبی کوریا
جہاز کو آئندہ چند روز میں ٹگ بوٹ کے ذریعے دبئی منتقل کیے جانے کی توقع
جنوبی کوریا کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں ایک جنوبی کوریائی آپریٹڈ جہاز پر لگنے والی آگ کی اصل وجہ کا تعین صرف اس وقت کیا جا سکے گا جب جہاز کو بندرگاہ تک پہنچایا جائے گا۔
وزارت نے کہا کہ حادثے کی مکمل حقیقت اس وقت سامنے آئے گی جب جہاز کو کھینچ کر لایا جائے گا اور اس کے نقصانات کا جائزہ لیا جائے گا۔
اس سے قبل اطلاع ملی تھی کہ جہاز کے انجن روم میں آگ لگی تھی۔ واقعے کے وقت جہاز پر موجود 24 عملے کے ارکان میں سے کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی، جن میں 18 غیر ملکی اور 6 جنوبی کوریائی شہری شامل تھے۔
جنوبی کوریا کی خبر ایجنسی یونہاپ کے مطابق یہ جہاز آبنائے ہرمز میں متحدہ عرب امارات کے قریب پانیوں میں لنگر انداز تھا جب دھماکہ ہوا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر دعویٰ کیا تھا کہ ایران نے ایک جنوبی کوریائی مال بردار جہاز کو نشانہ بنایا ہے، تاہم جہاز چلانے والی کمپنی ایچ ایم ایم نے تاحال کسی حملے کی تصدیق نہیں کی۔
کمپنی کے ایک اہلکار کے مطابق یہ واضح نہیں کہ واقعہ بیرونی حملے کا نتیجہ تھا یا جہاز کے اندرونی مسئلے کی وجہ سے دھماکہ ہوا۔
جہاز کو آئندہ چند روز میں ٹگ بوٹ کے ذریعے دبئی منتقل کیے جانے کی توقع ہے۔