امریکی قانون سازوں نے اسرائیلی ایٹمی پروگرام پر سوالات اٹھادیئے

ڈیموکریٹ اراکین کانگریس کا وزیرخارجہ کو خط ۔خاموشی ختم کرنے کا مطالبہ

May 7, 2026 · امت خاص, بام دنیا

اسرائیلی ایٹمی پلانٹ ڈیمونا کی سیٹلائٹ تصویر

 

امریکی کانگریس میں ڈیموکریٹ اراکین کے ایک گروپ نے محکمہ خارجہ سے مطالبہ کیا ہے کہ اسرائیل کی جوہری صلاحیتوں پر امریکہ کی طویل عرصے سے جاری خاموشی ختم کی جائے۔ان اراکین نے سکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو کو ایک خط لکھا ہے۔ اس خط میں انہوں نے ایران کے خلاف جاری امریکہ-اسرائیل جنگ کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب اس معاملے کو واضح کرنے کی ضرورت ہے۔

اسرائیل کے پاس 1960 کی دہائی سے جوہری ہتھیار موجود سمجھے جاتے ہیں۔ لیکن وہ جوہری ابہام کی پالیسی اپنائے ہوئے ہے، یعنی وہ کبھی سرکاری طور پر اپنے جوہری ہتھیاروں کے وجود کی تصدیق نہیں کرتا۔ وائٹ ہاؤس بھی اس معاملے پر ابہام برقرار رکھتا آیا ہے۔ البتہ کانگریس کے اراکین اب زیادہ شفافیت کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

30 امریکی کانگریس اراکین کے دستخط شدہ خط میں کہا گیا ہے کہ کانگریس کی ذمہ داری ہے کہ وہ مشرق وسطیٰ میں جوہری توازن، تنازعہ بڑھنے کے خطرات اور حکومت کی منصوبہ بندی کے بارے میں پوری طرح آگاہ ہو۔ ہمیں کبھی یہ معلومات نہیں دی گئیں۔

خط میں مزید کہا گیا کہ اسرائیل کی جوہری صلاحیتوں پر سرکاری ابہام کی پالیسی مشرق وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکنے کی پالیسی کو ناممکن بنا رہی ہے۔ ایران، سعودی عرب اور دیگر ممالک اپنے پڑوسیوں کی جوہری طاقت کے بارے میں اپنے اندازوں کی بنیاد پر فیصلے کرتے ہیں۔

امریکی قانون سازوں نے کئی سوالات پوچھے ہیں۔ اسرائیل کے پاس جوہری ہتھیاروں کی تعداد اور صلاحیت کیا ہے،وارہیڈز اور لانچرز کی تفصیلات کیا ہیں،اسرائیلی جوہری مرکز ڈیمونا کی صورت حال، یورینیم افزودگی کی اسرائیلی صلاحیت اور سطح ،پلوٹونیم بم سازی،کیا اسرائیل نے ایران کے موجودہ تنازعے میں امریکہ کو بتایا ہے کہ اس کے جوہری ہتھیار استعمال کرنے کی کیا حدود ہیں، کیا اسرائیل نے یقین دہانی دی ہے کہ وہ جوہری ہتھیار استعمال نہیں کرے گا،اور کیا حالیہ ایران تنازعے میں اسرائیل نے جوہری ہتھیار استعمال کرنے یا تعینات کرنے کی کوئی منصوبہ بندی دکھائی ۔

انسٹی ٹیوٹ فار مڈل ایسٹ انڈرسٹینڈنگ کے پالیسی ڈائریکٹر جوش ریوبنر نے کہا ہےکہ کانگریس کے اراکین یہ سوال کرنے میں بالکل حق بجانب ہیں کہ اسرائیل کو جوہری ہتھیار بنانے کی اجازت کیوں ہے،جب امریکہ ایران کو روکنے کی کوشش کر رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق اسرائیل کے پاس تقریباً 90 جوہری وارہیڈز ہیں، جوہری میزائل لانچ کرنے والی آبدوزیں ہیں اور 4000 میل تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل بھی ہیں۔