چین میں تعینات ایرانی سفارتکار کی چینی تیل بردار جہاز پر حملے کی تردید
عباس عراقچی کے حالیہ دورہ بیجنگ سے حاصل ہونے والے نتائج کی اہمیت کم کرنا ہے۔
چین میں تعیانات ایرانی سفارتکار نے ان اطلاعات کی تردید کی ہے کہ ایرانی فورسز نے مارشل آئی لینڈ کے ایک تیل کے ٹینکر پر حملہ کیا ہے جس پر چینی ملاح بھی سوار تھے۔
ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق ایرانی سفیر عبدالرضا رحمانی فضلی نے اس خبر کو ’غلط‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان خبروں کو پھیلانے کا مقصد وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کے حالیہ دورہ بیجنگ سے حاصل ہونے والے نتائج کی اہمیت کو کم کرنا ہے۔
چین کی وزارتِ خارجہ نے جمعہ کے روز تصدیق کی ہے کہ آبنائے ہرمز میں تیل بردار مصنوعات سے لدے ایک ٹینکر، جس پر چینی عملہ سوار تھا، حملے کا نشانہ بنا ہے۔
وزارتِ خارجہ نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث تجارتی جہازوں کو لاحق خطرات پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان لِن جیان نے ایک پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ مذکورہ جہاز پر چینی شہری بھی موجود تھے، تاہم اب تک عملے کے کسی فرد کے زخمی ہونے کی کوئی اطلاع سامنے نہیں آئی ہے۔
یاد رہے کہ چینی خبر رساں ادارے شیامن نے جمعرات کو رپورٹ کیا تھا کہ ایک چینی ملکیت کا تیل بردار جہاز پیر کے روز آبنائے ہرمز کے قریب حملے کی زد میں آیا ہے