ہنٹا وائرس پھیلنے کے خطرات سے عالمی صحت حکام تاحال اندھیرے میں
مہلک بیماری کی علامات ایک سے آٹھ ہفتوں کے درمیان شروع ہو سکتی ہیں
فائل فوٹو
ہنٹاوائرس کے پھیلائو کی زدمیں آنے والے بحری جہازسے اترے امریکی اور فرانسیسی مسافروں کا ٹیسٹ مثبت آگیا۔ دو نئے کیسز سے تصدیق شدہ کیسز کی کل تعداد 10 ہو گئی ہے۔ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے اب تک اس انفیکشن کے باعث دو اموات اور ایک ممکنہ موت کی تصدیق کی ہے اور جمعہ تک جنوبی افریقہ میں چار افراد کو انتہائی نگہداشت کے ساتھ ہسپتال میں داخل کیا گیا تھا۔
ہنٹاوائرس کی علامات ایک سے آٹھ ہفتوں کے درمیان شروع ہو سکتی ہیں اور ان میں سر درد، بخار، سردی لگنا، معدے کے مسائل اور سانس کی تکلیف شامل ہیں۔ڈبلیو ایچ او نے متاثرہ کروز کے مسافروں کے لیے 42 دن کے قرنطینہ کی سفارش کی ہے۔یونان نے اپنے نکالے گئے مسافر کے لیے 45 دن کا ہسپتال قرنطینہ نافذ کیا، آسٹریلیا نے اپنے شہریوں کو پرتھ کے قریب ایک مخصوص قرنطینہ سہولت میں منتقل کیا، اور برطانیہ نے اپنے مسافروں کو ٹیسٹنگ اور مختصر مشاہدے کے لیے ہسپتال آئسولیشن میں رکھا۔امریکہ نے زیادہ لچکدار طریقہ اپنایا، جس میں ہیلتھ حکام نے کہا کہ قرنطینہ کے فیصلے انفرادی خطرے کی تشخیص اور ایکسپوزر کی سطح پر منحصر ہوں گے۔
لگژری کروز جہازہونڈیئس کو ہنٹا وائرس پھیلنے کے بعد ہفتوں تک پھنسے رہنے کے بعد اسپین میں ٹینیرائف کے کینری جزیرے کے قریب لنگر انداز کیا گیا ہے۔ حکام ان مسافروں کا پتہ لگا رہے ہیں جو اس وبا کی نشاندہی سے پہلے جہاز سے اترے تھے۔ بتایاگیاہے کہ متاثرہ جہاز سے تقریباً ایک درجن ممالک کے 32 مسافر سینٹ ہیلینا میں اترے تھے، جن میں وہ ڈچ خاتون بھی شامل تھیں جو کچھ دن بعد فوت ہو گئیں۔ اسی طرح وبا کے پتہ چلنے سے پہلے امریکہ واپس جانے والے امریکی مسافروں کی کیلیفورنیا، جارجیا، ٹیکساس، ورجینیا اور ایریزونا کی ریاستی صحت ایجنسیاں نگرانی کر رہی ہیں۔
فرانسیسی وزیرصحت کے مطابق، پیرس منتقل کیے گئے پانچ فرانسیسی مسافروں میں سے ایک اتوار کی رات علامات ظاہر کرنے لگا اور ٹیسٹ مثبت آیا۔امریکہ کے صحت حکام نے تصدیق کی کہ ایک نکالے گئے مسافر میں ہلکی علامات پیدا ہوئیں، دوسرے کا ٹیسٹ مثبت ٹیسٹ آیا۔
ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن سمیت عالمی ہیلتھ ایجنسیوں نے زور دیا ہے کہ عالمی خطرہ کم ہی ہے، البتہ خبردار کیا ہے کہ بند جگہوں پر قریبی رابطے میں منتقل ہونے والا وائرس اگر فوری طور پر کنٹرول نہ کیا جائے تو کلسٹرز تیزی سے بڑھ سکتے ہیں۔
ہونڈیئس جہازیکم اپریل کو ارجنٹائن کے شہر اوشوایا سے روانہ ہوا تھا، جو جنوبی بحر اوقیانوس کے کئی جزیروںجنوبی جارجیا، جنوبی سینڈوچ جزائر، ٹرسٹن دا کنہا، گوف آئی لینڈ اور پھر 21 سے 24 اپریل تک سینٹ ہیلینا کا رخ کیا۔جہاز اس کے بعد کئی دن کیپ وردے (مغربی افریقہ کے ساحل سے باہر) پر لنگر انداز رہا اور پھر کینری آئی لینڈز کی طرف روانہ ہوا۔
وبا کا ذریعہ اب تک نامعلوم ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے سربراہ کا کہناہے کہ جہاز پر سوار ہونے سے پہلے، جو ڈچ جوڑا فوت ہوا (70 سالہ مرد اور اس کی 69 سالہ بیوی)، وہ کئی ہفتوں تک ارجنٹائن، چلی اور یوراگوئے کے دورے پر تھے جہاں اینڈیز وائرس بردار چوہوں کی انواع موجود ہیں۔مرد میں 6 اپریل کو علامات پیدا ہوئیں اور وہ 11 اپریل کو جہاز پر ہی دم توڑ گیا۔۔اس کی بیوی جہاز کے برطانوی علاقے سینٹ ہیلینا میں لنگر انداز ہونے پر اتر گئی۔ 25 اپریل کو جوہانسبرگ (جنوبی افریقہ) جانے والے طیارے میں اس کی حالت سنگین ہو گئی اور اگلے دن وہ جنوبی افریقہ میں دم توڑ گئی۔ ٹیسٹوں سے تصدیق ہوئی کہ اسے ہینٹا وائرس ہوا تھا۔جرمنی کی ایک خاتون میں 28 اپریل کو علامات پیدا ہوئیں اور وہ 2 مئی کو جہاز پر ہی فوت ہو گئیں۔
تفتیش کے مرکز میں یہ بات ہے کہ کروز پرکنٹرولڈماحول میں پھیلاؤ اتنی تیزی سے کیسے بڑھا۔ہنٹا کا اینڈیز وائرس سٹرین انسانوں کے درمیان پھیلنے کی نایاب صلاحیت کی وجہ سے جانا جاتا ہے، یہ عام طور پر طویل قریبی رابطے سے ہوتا ہے۔
ماہرین وبائیات نے ارجنٹائن کو ممکنہ اصل مقام قرار دیا ہے، اگرچہ وہاں کے حکام کا کہناہے کہ انفیکشن شاید پہلے ہوا ہو۔