ایران کی جانب سے مذاکرات معطل کرنے کا کوئی پیغام نہیں ملا، ٹرمپ

ایران اگر خاموش رہنا چاہتا ہے تو یہ بھی ٹھیک ہے، ڈونلڈ ٹرمپ کا امریکی ٹی وی کو انٹرویو

June 1, 2026 · بام دنیا
فائل فوٹو

فائل فوٹو

واشنگٹن / تہران: لبنان پر اسرائیلی حملوں کے تسلسل کے خلاف احتجاجاً ایران نے امریکا کے ساتھ جاری بالواسطہ مذاکرات اور پیغامات کا تبادلہ معطل کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جس کے بعد خطے میں کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی ہے۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس پیشرفت پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں تہران کی جانب سے اب تک مذاکرات کی معطلی کا کوئی باضابطہ پیغام نہیں ملا، تاہم اگر ایسا ہے تو وہ انتظار کرنے کے لیے تیار ہیں۔

ایرانی میڈیا کے مطابق، ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی ‘تسنیم’ نے رپورٹ کیا ہے کہ تہران نے لبنان میں جاری اسرائیلی جارحیت کے باعث امریکا کے ساتھ ثالثوں کے ذریعے ہونے والی گفتگو اور دستاویزات کا تبادلہ روک دیا ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ایران اور اس کے اتحادی اب عالمی تجارتی اور توانائی کی سپلائی کے لیے انتہائی اہم بحری راستے ‘آبنائے ہرمز’ کو مکمل طور پر بند کرنے اور امریکا و اسرائیل کے خلاف ‘دیگر محاذ’ فعال کرنے پر غور کر رہے ہیں۔”

اس سے قبل ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے بیان میں واضح کیا تھا کہ امریکا کے ساتھ کسی بھی ممکنہ معاہدے کے لیے لبنان میں مکمل جنگ بندی ایک “لازمی شرط” ہے۔ انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ امریکا-ایران جنگ بندی کے دوران کسی بھی ایک محاذ پر خلاف ورزی کو “تمام محاذوں پر خلاف ورزی” تصور کیا جائے گا۔

امریکی ٹی وی نیٹ ورک ‘این بی سی’ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی میڈیا کی رپورٹس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں تہران کی جانب سے مذاکرات کی معطلی کے بارے میں باضابطہ طور پر مطلع نہیں کیا گیا۔

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر وہ (ایران) خاموش رہنا چاہتے ہیں تو یہ بھی ٹھیک ہے، ہم انتظار کر سکتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ ہم وہاں جا کر بمباری شروع کر دیں گے۔ ہم ایران پر اپنی بحری ناکہ بندی برقرار رکھیں گے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اشارہ دیا کہ مذاکرات کا سلسلہ طویل ہو رہا تھا اور اب خاموشی کا یہ دور طویل بھی ہو سکتا ہے۔