آبنائے ہرمز بند رہی تو بڑا انسانی بحران جنم لے سکتا ہے۔ اقوام متحدہ

لاکھوں افراد بھوک اور قحط کے خطرے سے دوچار ہو سکتے ہیں، یو این انتباہ

May 12, 2026 · بام دنیا

اقوام متحدہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے خبردار کیا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز کو جلد دوبارہ نہ کھولا گیا تو دنیا کو ایک “بڑے انسانی بحران” کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

اقوام متحدہ کے اس ٹاسک فورس کے سربراہ نے غیر ملکی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ اگر کھاد کی ترسیل اس اہم آبی گزرگاہ سے نہ ہو سکی تو لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں افراد بھوک اور قحط کا شکار ہو سکتے ہیں۔

تقریباً دنیا کی ایک تہائی کھاد عام طور پر خلیج سے گزر کر مختلف ممالک تک پہنچتی ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے منصوبہ جاتی خدمات (UNOPS) کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اور ٹاسک فورس کے سربراہ جارج موریرا دا سلوا نے اے ایف پی سے گفتگو میں کہا کہ ہمارے پاس صرف چند ہفتے ہیں تاکہ اس بڑے انسانی بحران کو روکا جا سکے۔

انہوں نے مزید کہا کہ صورتحال ایسی شکل اختیار کر سکتی ہے جس میں 4 کروڑ 50 لاکھ اضافی افراد بھوک اور قحط کا شکار ہو جائیں گے۔