کیئر سٹارمر پر دبائو میں اضافہ ۔ استعفے کے مطالبات کا سامنا

برطانوی وزیرِ اعظم کی پالیسی یوٹرنز اور کم مقبولیت سے قیادت خطرے میں

May 12, 2026 · امت خاص, بام دنیا

ابتدائی مہینوں میں مفت تحائف کے تنازعے نے بھی سٹارمر حکومت کو گھیرے رکھا۔ (فوٹو: اے ایف پی)

برطانوی وزیرِ اعظم شدید سیاسی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں، جہاں پالیسی یوٹرنز، تنازعات اور کم عوامی مقبولیت نے ان کی قیادت کو نازک صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔

خبر رساں ادارے کے مطابق کیئر سٹارمر 5 جولائی 2024 کو وزارتِ عظمیٰ کے منصب پر اس وعدے کے ساتھ آئے تھے کہ وہ 14 سالہ کنزرویٹو حکومت کے بعد برطانوی سیاست میں استحکام اور “خدمت” پر مبنی طرزِ حکمرانی لائیں گے۔

انہوں نے خود کو سابق وزرائے اعظم بورس جانسن اور لِز ٹرس کے برعکس ایک محتاط اور عملی رہنما کے طور پر پیش کیا، تاہم بعد ازاں انہیں نظریاتی سمت اور عوامی اعتماد کے حوالے سے مشکلات کا سامنا رہا۔

کتاب Get In کے مطابق سٹارمر نے کہا تھا کہ “سٹارمر ازم جیسی کوئی چیز نہیں ہے اور نہ کبھی ہوگی۔”

وزارتِ عظمیٰ سنبھالنے کے بعد انہیں متعدد یوٹرنز کا سامنا کرنا پڑا، جن میں موسمِ سرما کی ایندھن ادائیگیوں کی واپسی کا فیصلہ، فلاحی اصلاحات میں پسپائی، اور وراثتی ٹیکس و اجرت پالیسیوں پر تنازعات شامل ہیں۔

اسی دوران مفت تحائف اور سیاسی تقرریوں سے متعلق اسکینڈلز نے بھی حکومت کو گھیر لیا، جبکہ ایک سفیر کی برطرفی کے بعد اعلیٰ سطحی استعفے بھی سامنے آئے۔

حالیہ دنوں میں لیبر پارٹی کے تقریباً 400 ارکان میں سے بعض کی جانب سے ان کے استعفیٰ یا قیادت کے چیلنج کے مطالبات سامنے آئے ہیں۔

اگرچہ سٹارمر نے ایران اور یوکرین سے متعلق خارجہ پالیسی پر سراہا حاصل کیا، تاہم اندرونِ ملک انہیں دائیں بازو کی جماعت کے بڑھتے ہوئے دباؤ اور کم مقبولیت کا سامنا ہے۔

ایک حالیہ سروے کے مطابق ان کی مقبولیت صرف 19 فیصد رہ گئی ہے، جو برطانوی وزیرِ اعظم کے لیے انتہائی کم سطح ہے۔

پیر کے روز سٹارمر نے استعفیٰ دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ وہ “برطانیہ کی روح کی جنگ” لڑ رہے ہیں اور لیبر حکومت ملک کو بحران سے نکالے گی۔