ٹرمپ کا پاکستان کے ثالثی کردار پر اعتماد، لنڈسے گراہم کا مطالبہ مسترد کردیا

امریکی صدر نے پاکستانی قیادت کے کردار کو ’بہت عمدہ‘ قرار دے دیا

فائل فوٹو

فائل فوٹو

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کے ایران جنگ میں ثالثی کردار کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس کردار پر نظرثانی کے بارے میں نہیں سوچ رہے۔ یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا جب امریکی میڈیا میں پاکستان سے متعلق متنازع دعوے گردش کر رہے ہیں جنہیں اسلام آباد نے سختی سے مسترد کر دیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین کے دورے پر روانگی سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان کے ثالثی کردار کی حمایت کی۔ ایک صحافی نے اُن سے سوال کیا کہ کیا وہ بطور ثالث پاکستان کے کردار پر نظرثانی کے بارے میں سوچ رہے ہیں؟

اس پر جواب دیتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا، ’نہیں، میرے خیال میں وہ بہت شاندار [کام کر رہے] ہیں۔ میرے خیال میں پاکستانیوں نے بہت عمدہ کردار ادا کیا ہے۔ پاکستان کے فیلڈ مارشل اور وزیرِاعظم دونوں نے ہی بہت اچھا کام کیا ہے۔‘

صدر ٹرمپ کا یہ بیان امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس نیوز کی اُس رپورٹ کے بعد سامنے آیا جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ پاکستان نے ایرانی طیاروں کو ممکنہ امریکی حملوں سے محفوظ رکھنے کے لیے اپنے ایئربیسز پر جگہ دی۔ پاکستان نے ان دعوؤں کو ’بے بنیاد‘، ’سنسنی خیز‘ اور ’گمراہ کُن‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا تھا۔

صدر ٹرمپ نے اس موقع پر یہ بھی عندیہ دیا کہ دورہ چین کے دوران اُن کی چینی صدر شی جن پنگ سے ایران کے معاملے پر تفصیلی بات چیت ہوگی، تاہم اُنہوں نے واضح کیا کہ ایران کے معاملے میں امریکہ کو چین کی مدد درکار نہیں۔

یہ معاملہ اُس وقت مزید توجہ کا مرکز بنا جب امریکی کانگریس میں ہونے والی ایک سماعت کے دوران سینیٹر لنڈسے گراہم نے امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ اور جوائنٹ چیفس آف سٹاف کے جنرل ڈین کین سے سوال کیا کہ آیا وہ ان رپورٹس سے آگاہ ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی کے دوران ایرانی طیاروں کو ممکنہ امریکی حملوں سے محفوظ رکھنے کے لیے جگہ دی۔

سینیٹر گراہم نے سوال کیا کہ اگر یہ اطلاعات درست ہیں تو کیا یہ اقدامات کسی ثالث کے کردار سے مطابقت رکھتے ہیں؟

جنرل ڈین کین نے اس سوال پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا، جبکہ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے بھی براہِ راست جواب دینے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان مذاکرات میں مداخلت نہیں کرنا چاہتے۔

اس پر سینیٹر گراہم نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستان پر بھروسہ نہیں کرتے اور اگر واقعی ایرانی طیاروں کو تحفظ فراہم کیا گیا ہے تو امریکہ کو کسی اور ثالث کی تلاش کرنی چاہیے۔ اُن کا کہنا تھا کہ ’کوئی تعجب نہیں کہ یہ معاملہ حل نہیں ہو رہا۔‘

دوسری جانب پاکستان کی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ اس نوعیت کی قیاس آرائیوں کا مقصد خطے میں امن اور استحکام کے لیے جاری سفارتی کوششوں کو نقصان پہنچانا ہے۔

سی بی ایس نیوز نے اپنی رپورٹ میں امریکی حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا تھا کہ اپریل کے اوائل میں متعدد ایرانی طیارے راولپنڈی کے نور خان ایئربیس پہنچے، جن میں ایک آر سی-130 طیارہ بھی شامل تھا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ پاکستان نے خاموشی سے ایرانی فوجی طیاروں کو اپنے ہوائی اڈوں پر کھڑا ہونے کی اجازت دی تاکہ وہ ممکنہ امریکی فضائی حملوں سے محفوظ رہ سکیں۔

پاکستانی وزارت خارجہ نے ایک ایرانی طیارے کی موجودگی کی تصدیق ضرور کی، تاہم واضح کیا کہ یہ طیارہ جنگ بندی کے دوران پاکستان پہنچا تھا اور اس کا کسی عسکری یا حفاظتی انتظام سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

پاکستان کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی کے بعد اسلام آباد میں مذاکرات کے پہلے دور کے دوران ایران اور امریکہ سے متعدد طیارے سفارتی، انتظامی اور سکیورٹی عملے کی نقل و حرکت کے لیے پاکستان آئے تھے۔ وزارت خارجہ نے کہا کہ کچھ طیارے اور عملہ ممکنہ آئندہ مذاکرات کے پیشِ نظر عارضی طور پر پاکستان میں مقیم رہے۔

وزارت خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان نے ایک غیر جانبدار اور ذمہ دار ثالث کے طور پر ہمیشہ مکالمے اور کشیدگی میں کمی کی حمایت کی ہے اور اسی تناظر میں لاجسٹک اور انتظامی تعاون فراہم کیا گیا، جبکہ تمام متعلقہ فریقوں سے مکمل شفافیت کے ساتھ رابطہ برقرار رکھا گیا۔