آبنائے ہرمز کھلی ہے،عراقچی۔ جہازرانی کے لیےمقررہ ضابطوں کی پابندی لازم قرار

یہ امریکہ ہے جس نے غیر قانونی بحری ناکہ بندی کی ہے۔ایرانی وزیرخارجہ

تصویر: سوشل میڈیا

 

ایران نے عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے اہم ترین بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز کو تجاری جہازوں کے لیے کھلا رکھنے کا اعلان  دہرایا ہے، بشرطیکہ جہاز ایرانی بحریہ کے ساتھ ہم آہنگی اور کوآرڈینیشن میں چلیں۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے برکس خارجہ وزرائے اجلاس کے موقع پر نیو دہلی میں یہ بیان دیا۔ ان کے مطابق آبنائے ہرمز کا راستہ عالمی تجارت کے لیے کھلا رہے گا، لیکن جہازوں کو ایرانی پورٹس اینڈ میری ٹائم آرگنائزیشن کے ذریعے مقرر کردہ راستوں اور پروسیجرز کی پابندی کرنی ہوگی۔

مہرنیوزایجنسی کے مطابق، عباس عراقچی نے زور دیا ہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز میں کوئی رکاوٹ پیدا نہیں کی ، بلکہ یہ امریکہ ہے جس نے آبنائے ہرمز میں غیر قانونی بحری ناکہ بندی کی ہے۔

پریس ٹی وی سے انٹرویو میں بات کرتے ہوئے انہوںنے کہا کہ آبنائے ہرمز اس وقت سب سے زیادہ امریکہ کی جارحیت اور اس کی طرف سے عائد کردہ غیر قانونی ناکہ بندی کی وجہ سے متاثر ہو رہا ہے۔انہوں نے کہاکہ ہمارے خیال میں آبنائے ہرمز تمام تجارتی جہازوں کے لیے کھلا ہے، لیکن انہیں ہماری بحریہ کے ساتھ تعاون کرنا ہوگا۔

نہوں نے مزید کہاکہ مجھے امید ہے یہ صورتحال امریکہ کی طرف سے آبنائے ہرمز میں عائد کردہ اس غیر قانونی ناکہ بندی کے خاتمے سے ختم ہو جائے گی۔

ایران نے پہلے بھی رواں سال اپریل میں لبنان سیز فائر کے بعد یہی موقف اختیار کیا تھا کہ آبنائے ہرمز مکمل طور پر کھلا رہے گا، جب تک جہاز کوآرڈینیشن کے اصولوں کی پیروی کریں گے۔