وزیر داخلہ محسن نقوی کی48 گھنٹے میں دوسری بار ایرانی صدر سے ملاقات
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے چند روز پہلے بھی ایران کا دورہ کیا تھا ۔
فائل فوٹو
تہران: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی 48 گھنٹے کے اندر دوسری بار اہم دورے پر تہران پہنچ گئے۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے تہران میں ایران کی اعلیٰ قیادت سے دوبارہ اہم ملاقاتیں کیں۔محسن نقوی کی تہران میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے بھی ایک ہفتے میں دوسری ملاقات ہوئی۔
انہوں نے ایران کے وزیر داخلہ سکندر مومنی اور پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر انچیف جنرل احمد وحیدی سے بھی ملاقات کی۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے چند روز پہلے بھی ایران کا دورہ کیا تھا جس میں انہوں نے ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی، ایرانی پارلیمنٹ کے aسپیکر باقر غالیباف، ایران کے صدر مسعود پزشکیان اور دیگر اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کی تھیں، دورہ مکمل کرے وہ 24 گھنٹے قبل ہی پاکستان واپس پہنچے تھے جس کے بعد وہ آج سہہ پہر دوبارہ ایران روانہ ہوئے۔
سفارت کاری میں باہمی احترام جنگ سے زیادہ محفوظ اور پائیدار ہے،مسعود پزشکیان
دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ‘ایکس’ (سابقہ ٹوئٹر) پر اپنے ایک حالیہ بیان میں عالمی برادری اور بالخصوص مغربی طاقتوں کو مذاکرات اور سفارت کاری کا پیغام دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ ایران کی جانب سے بات چیت کے تمام راستے کھلے ہیں، تاہم دباؤ اور دھمکیوں کے ذریعے ایران کو جھکانے کی کوششیں محض ایک سراب ہیں۔
صدر پزشکیان نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ ایران نے ہمیشہ اپنے وعدوں کی پاسداری کی ہے اور جنگ سے بچنے کے لیے ہر ممکن راستے کو تلاش کیا ہے۔ ہماری طرف سے (مذاکرات کے) تمام راستے کھلے ہیں۔
ایرانی صدر نے مزید کہا کہ سفارت کاری میں باہمی احترام کا راستہ اختیار کرنا جنگ کی نسبت کہیں زیادہ دانشمندانہ، محفوظ اور پائیدار حکمت عملی ہے۔ انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ زبردستی اور جبر کے ذریعے ایران کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنے کی سوچ رکھنے والے وہم کا شکار ہیں۔
Iran has consistently honored its commitments and explored every avenue to avert war; all paths remain open from our side. Forcing Iran to surrender through coercion is nothing but an illusion. Mutual respect in diplomacy is far wiser, safer, and more sustainable than war.
— Masoud Pezeshkian (@drpezeshkian) May 20, 2026
صدر پزشکیان نے واضح کیا کہ ایران کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل کے لیے تیار ہے۔ ایران کسی بھی بیرونی دباؤ یا دھمکی کے تحت جھکنے کو تیار نہیں۔
ایرانی قیادت کے مطابق مشرق وسطیٰ اور عالمی سطح پر امن کا واحد راستہ باہمی احترام پر مبنی سفارت کاری ہے۔