خوارج نے پی ٹی آئی رہنما کو روکنے کے بعد جانے کیوں دیا۔تانے بانے مل گئے
دہشت گردی کا نیٹ ورک افغانستان تک دراز ہونے کے مزید شواہد
ایک بارپھر خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے تانے بانے افغانستان میں جاتے ہوئے دکھائی دیئے ہیں،خوارج اور پی ٹی آئی میں باہمی روابط کا بھی انکشاف ہواہے۔
سیکیورٹی اداروں نے ایک آڈیوکال ٹریس کی ہے جس کاٹرانسکرپٹ واضح طور پر بتاتا ہے کہ افغانستان میں موجود خارجی کمانڈر جنوبی وزیرستان میں دہشت گرد کو براہ راست احکامات دے رہا ہے۔ یہ سرحد پار فعال کمانڈ اینڈ کنٹرول کا ثبوت ہے۔پاکستان کے اندر دہشت گرد کارروائیوں کو افغانستان سے حکمت عملی اور عمل دونوں سطح پر ہدایات دی جا رہی ہیں، جن پر فوری عمل بھی کیا جا رہا ہے۔
محفوظ پناہ گاہ پر مبنی ماڈل موجودہ دہشت گردی کے منظر نامے کا مرکزی ستون بن چکا ہے، جسے افغان طالبان کی سرپرستی اور بھارتی را کی مدد حاصل ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کا کہناہے کہ جب سرحد پار کے عناصر پاکستان کے اندر دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی کرتے ہیں اور ہدایات جاری کرتے ہیں تو یہ صرف ملک کے اندرونی سلامتی کا مسئلہ نہیں رہتا بلکہ ایک علاقائی سیکیورٹی کا چیلنج بن جاتا ہے۔ اس کے لیے عالمی سطح پر افغان طالبان اور را جیسے سہولت کاروں کے خلاف کارروائی ناگزیر ہے۔
تحریک انصاف ایم پی اے آصف محسود کے ساتھ خوارج کا برتا ئواتفاقیہ نہیں بلکہ تعلقات کا عکاس ہے۔ایک مقامی خارجی آپریٹو نے شروع میں انہیں روکا اور تلاشی لی، مگر جیسے ہی افغانستان میں موجود کمانڈر کو پتا چلا کہ وہ پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والی سیاسی شخصیت ہیں، فوری حکم جاری ہوا کہ نہ صرف انہیں چھوڑ دیا جائے بلکہ معذرت بھی کی جائے۔عام شہریوں کو ایسی رعایت ہرگز حاصل نہیں ہوتی۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ پی ٹی آئی کے ایم پی اے آصف محسود کے تنگی بادنزئی، لدھا، کنی گورم اور بدر ویلی کے مقامی خوارج سے قریبی روابط ہیں۔ یہ واقعہ ایک الگ علاقے میں پیش آیا، اس لیے جس خارجی آپریٹو نے ایم پی اے کو روکا، وہ ان کے تعلقات سے آگاہ نہیں تھا۔
جب آصف محسود نے اپنا تعارف کرایا تو آپریٹو نے تصدیق کے لیے افغانستان میں موجود کمانڈر سے رابطہ کیا۔یہ گہرے روابط کسی ایک کیس تک محدود نہیں بلکہ خیبر پختونخوا کے متعدد حلقوں میں اسی نوعیت کے تعلقات موجود ہیں، جس سے صوبائی سطح پر ایک سیاسی خلا اور دھندلا پن پیدا ہو چکا ہے۔
یہ بھی معروف حقیقت ہے کہ اقتدار میں موجود بعض سیاسی عناصر دہشت گرد،جرائم کے نیٹ ورکس سے قریبی روابط رکھتے ہیں اور انہیں سیاسی تحفظ فراہم کرتے ہیں۔جہاں تاجر، قبائلی عمائدین اور عام شہری بھتہ خوری اور اغوا کا شکار بنتے ہیں، وہیں بعض سیاسی شخصیات کو استثنیٰ اور خصوصی رعایت ملتی دکھائی دیتی ہے۔ یہ ٹکرئوا نہیں بلکہ باہمی ایڈجسٹمنٹ کے نظام کی نشاندہی کرتا ہے۔
مذکورہ آڈیو اس دعوے کو کمزور کرتی ہے کہ فتنہ الخوارج کوئی مقامی مزاحمتی تحریک ہے۔منظم بھتہ خوری، افغانستان میں محفوظ پناہ گاہیں، سیاسی سہولت کاری اور جرائم پر مبنی مالی ڈھانچہ واضح کرتے ہیں کہ یہ مقامی تحفظات پر مبنی کوئی تحریک نہیں بلکہ ایک منظم دہشت گردی،اورجرائم کا کاروبار ہے۔اصل ماسٹر مائنڈزافغانستان میں مکمل آزادی کے ساتھ بیٹھ کر پورے نیٹ ورک کو چلا رہے ہیں۔
سیکیورٹی ذریعے کے مطابق، دہشت گردی کی موجودہ لہر نظریاتی نہیں بلکہ منظم دہشت گرد معیشت میں تبدیل ہو چکی ہے۔بھتہ خوری، منشیات، غیر قانونی اسلحہ، اسمگلنگ، منی لانڈرنگ اور دوسری ریشہ دوانیاں اب ان نیٹ ورکس کی مالی بنیاد بن چکی ہیں، جنہیں مقامی سہولت کاروں اور سیاسی تحفظ کی پشت پناہی حاصل ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس پورے کھیل کا نام نہاد مقصد اب صرف مالی مفادات، دبائو اور علاقائی کنٹرول کے لیے ایک پردہ بن چکا ہے۔وہ مقامی بااثر عناصر جو 15سے 20مسلح افراد اکٹھے کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں، انہیں فرنچائز طرز کے ماڈل کے تحت نیٹ ورک میں شامل کر کے مخصوص علاقوں میں عملی حمایت فراہم کی جاتی ہے۔
دہشت گرد نیٹ ورکس، اسمگلنگ کے راستے، غیر قانونی ٹیکس وصولی اور اغوا برائے تاوان کے نظام ایک دوسرے سے گہرائی سے جڑے ہوئے ہیں۔اس کیس میں فتنہ الخوارج کے آپریٹو کا مقصد ایم پی اے کو 4سے 5کروڑ روپے تاوان کے لیے اغوا کرنا تھا۔علاقے میں دانستہ طور پر عدم تحفظ برقرار رکھا جاتا ہے کیونکہ عدم استحکام ہی اس غیر قانونی معیشت کو زندہ رکھتا ہے اور مقامی سرپرستی کے نظام کے ذریعے عوامی وسائل کی لوٹ مار ممکن بناتا ہے۔
پی ٹی آئی، پی ٹی ایم اور فتنہ الخوارج قبائلی علاقوں میں اشتراک سے سرگرم ہیں۔دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کی مسلسل مخالفت، سیکیورٹی کے اقدامات کو متنازع بنانے کی کوششیں، اور دہشت گرد بیانیے کے لیے لفظی جگہ پیدا کرنا یہ تمام عوامل مل کر انتہا پسند گروہوں کے لیے سازگار ماحول پیدا کرتے ہیں۔