امریکہ نے کیوبا کے سابق صدر راؤل کاسترو پر فردِ جرم عائد کر دی

چاہے کتنا ہی وقت کیوں نہ گزر جائے، ٹرمپ انتظامیہ ان لوگوں کے خلاف انصاف کے حصول کے لیے پرعزم ہے جو امریکیوں کو قتل کرتے ہیں۔بلانش

May 21, 2026 · بام دنیا
فائل فوٹو

فائل فوٹو

واشنگٹن: قائم مقام امریکی اٹارنی جنرل ٹوڈ بلانش نے ایک پریس کانفرنس میں بتیا ہے کہ راؤل کاسترو اور دیگر افراد پر امریکی شہریوں کو قتل کرنے کی سازش کے الزام میں فردِ جرم عائد کی جا رہی ہے۔

بلانش کے مطابق کاسترو اور دیگر ملزمان پر طیارہ تباہ کرنے اور قتل کے چار مقدمات بھی قائم کیے گئے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ سنہ 1996 میں جب کیوبن فوجی طیاروں نے دو شہری جہازوں کو مار گرایا تھا تو اس واقعے میں ہلاک ہونے والے چار افراد کے خاندان دہائیوں سے ’انصاف‘ کے منتظر ہیں۔

اس حادثے میں ہلاک ہونے والے 4 افراد 44 برس کے آرمینڈو الیخاندری جونیئر، 29 برس کے کارلوس البرٹو کوسٹا، 24 برس کے ماریو مانوئل دے لا پینیا اور 29 برس کے پابلو مورالس کے نام لینے کے بعد قائم مقام امریکی اٹارنی جنرل بلانش نے کہا کہ ’کاسترو اور ان کے ساتھیوں کے خلاف فردِ جرم ایک وفاقی عدالت نے جاری کی ہے۔‘

بلانش نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ چاہے کتنا ہی وقت کیوں نہ گزر جائے، ٹرمپ انتظامیہ ان لوگوں کے خلاف انصاف کے حصول کے لیے پرعزم ہے جو امریکیوں کو قتل کرتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ امریکہ اپنے شہریوں کو نہ بھولتا ہے اور نہ ہی بھولے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ممالک اور ان کے رہنماؤں کو یہ اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ امریکیوں کو نشانہ بنائیں اور پھر جوابدہی سے بچ جائیں۔‘

راؤل کاسترو کون ہیں؟

94 برس کے راؤل کاسترو کیوبا کے سابق رہنما ہیں اور وہ 15 برس تک مُلک کی قیادت کر چُکے ہیں۔

انھوں نے اپنے بڑے بھائی فیدل کاسترو کی جگہ مُلک کی سربراہی سنبھالی، جو سنہ 1959 سے اس جزیرہ نما ملک کے رہنما تھے، جب انھوں نے آمر فلجینسیو باتیستا کے خلاف کامیاب کیوبن انقلاب کی قیادت کی تھی۔

سات بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹے راؤل کاسترو نے انقلاب میں اہم کردار ادا کیا اور ایک ایسی گوریلا فورس کے کمانڈر رہے جو حکومت کے خاتمے میں فیصلہ کن ثابت ہوئی۔

راؤل کاسترو نے بطور رہنما کمیونسٹ پارٹی کی یک جماعتی حکمرانی کو برقرار رکھا۔

انھوں نے سنہ 2014 سے سنہ 2016 کے درمیان امریکہ کے ساتھ تعلقات میں بہتری کی نگرانی کی، جس میں سنہ 2016 میں صدر براک اوباما کے ساتھ تاریخی مذاکرات بھی شامل تھے۔

لیکن ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں پابندیوں میں اضافے کے باعث تعلقات دوبارہ کشیدہ ہو گئے۔

راؤل نے سنہ 2021 میں کیوبا کی صدارت اور کمیونسٹ پارٹی کی قیادت موجودہ صدر میگوئل دیاس کانیل کے حوالے کر دی، لیکن بہت سے لوگ اب بھی انھیں ہی ملک کا سب سے طاقتور شخص سمجھتے ہیں۔

اپنی ریٹائرمنٹ کے وقت انھوں نے کیوبا کی کانگریس سے کہا تھا کہ ’جب تک میں زندہ ہوں، میں وطن، انقلاب اور سوشلزم کے دفاع کے لیے تیار رہوں گا۔‘