اقوام متحدہ میں جوہری مذاکرات ناکام۔ اتفاق رائے نہ ہوسکا
چار ہفتوں تک جاری رہنے والی این پی ٹی کانفرنس کسی حتمی معاہدے کے بغیرختم ہوگئی
اقوام متحدہ میں جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ اور تخفیف اسلحہ سے متعلق چار ہفتوں تک جاری رہنے والے مذاکرات کسی معاہدے کے بغیر ختم ہوگئے۔ مذاکرات کی صدارت کرنے والے سفارتکار نے اعلان کیا کہ رکن ممالک کسی متفقہ نتیجے تک پہنچنے میں ناکام رہے۔
کانفرنس کے صدر اور ویتنام کے سفارتکار ڈو ہنگ ویٹ نے نیویارک میں صحافیوں کو بتایا کہ بھرپور کوششوں کے باوجود کانفرنس اپنے بنیادی نکات پر اتفاق رائے حاصل نہیں کرسکی، اس لیے حتمی دستاویز منظوری کے لیے پیش نہیں کی جائے گی۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق کانفرنس کے آخری مسودے میں کہا گیا تھا کہ ایران، جو تاحال جوہری ہتھیار نہیں رکھتا، اسے کبھی بھی جوہری ہتھیار تیار نہیں کرنے چاہئیں۔
مذاکرات کے دوران جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے تاریخی معاہدے این پی ٹی کا جائزہ لیا گیا۔ اس معاہدے کے تحت 191 ممالک نے اس بات پر اتفاق کیا تھا کہ جوہری ہتھیار صرف ان پانچ ممالک تک محدود رہیں گے جن کے پاس یکم جنوری 1967 سے قبل یہ ہتھیار موجود تھے، جن میں امریکہ، برطانیہ، چین، روس اور فرانس شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق بعد ازاں پاکستان، بھارت، اسرائیل، شمالی کوریا بھی جوہری طاقتیں بن گئے۔ جبکہ اعداد و شمار کے مطابق جنوری 2025 تک دنیا کے 12 ہزار 241 جوہری وارہیڈز میں سے 90 فیصد امریکا اور روس کے پاس موجود تھے۔