گرین کارڈ قوانین میں تبدیلی سے ایرانی شہری خطرے میں۔امریکی کانگریس وومن

یاسمین انصاری نے ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسی پر شدید تحفظات کا اظہار کردیا۔

May 23, 2026 · بام دنیا

ڈیموکریٹک کانگریس وومن یاسمین انصاری نے خبردار کیا ہے کہ امریکہ میں گرین کارڈ سے متعلق مجوزہ تبدیلیاں ہزاروں ایرانی شہریوں کے لیے سنگین خطرات پیدا کرسکتی ہیں۔

ڈیموکریٹک کانگریس وومن نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ مستقل رہائش (پرمننٹ ریذیڈنسی) کے لیے درخواست دینے والے افراد کو اس عمل کے لیے امریکا سے باہر جانا ہوگا، جس سے پہلے ہی ویزا مسائل میں پھنسے ایرانی مزید غیر یقینی صورتحال کا شکار ہوجائیں گے۔

یاسمین انصاری کے مطابق اس تجویز کے تحت ایرانی شہریوں کو گرین کارڈ کے لیے درخواست دینے کی خاطر ملک چھوڑنے پر مجبور کیا جاسکتا ہے، جبکہ ایران میں امریکی سفارت خانہ موجود نہ ہونے کے باعث یہ عمل مزید پیچیدہ ہوجائے گا۔

انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ اس وقت 12 ہزار سے زائد ایرانی طلبہ اور ورک ویزا ہولڈرز امریکا میں قانونی طور پر موجود ہیں لیکن ویزا پروسیسنگ میں تعطل کے باعث شدید خوف اور غیر یقینی کیفیت کا شکار ہیں۔

کانگریس وومن نے کہا کہ ان افراد کو جنگ اور سیاسی جبر کے ماحول میں دوبارہ ایسے نظام کے حوالے کیا جاسکتا ہے جہاں ان کے لیے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔

یاسمین انصاری نے یہ بھی بتایا کہ انہوں نے کانگریس میں ایک قانون سازی پیش کی ہے جس کے تحت اہل ایرانی شہریوں کو عارضی تحفظی حیثیت (TPS) اور ورک پرمٹ دینے کی تجویز شامل ہے۔