ابتدائی معاہدے کے باوجود آبنائے ہرمز فوری بحال نہیں ہوگی۔ایران

ایرانی ذرائع کے مطابق 30 روز میں صورتحال بتدریج معمول پر لائی جاسکتی ہے

May 25, 2026 · بام دنیا

ایرانی حکام نے عندیہ دیا ہے کہ امریکہ کے ساتھ ابتدائی نوعیت کا ممکنہ سمجھوتہ طے پانے کے باوجود آبنائے ہرمز کو فوری طور پر جنگ سے پہلے والی مکمل صورتحال میں بحال نہیں کیا جائے گا۔
ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر ایران اور امریکہ کے درمیان ابتدائی نکات پر اتفاق ہوجاتا ہے تب بھی آبنائے ہرمز کی قانونی اور انتظامی حیثیت فوری طور پر تبدیل نہیں ہوگی، البتہ وہاں سے گزرنے والے بحری جہازوں کی تعداد میں مرحلہ وار اضافہ کیا جاسکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کی تعداد کو جنگ سے قبل کی سطح پر واپس لانے کیلئے 30 روز سے زائد کا وقت درکار ہوسکتا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ ابتدائی سمجھوتے سے ظاہر ہوتا ہے کہ آبنائے ہرمز کی صورتحال مکمل طور پر سابق حالت میں بحال نہیں ہوگی، جبکہ بعض مغربی میڈیا رپورٹس میں اس کے برعکس دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایران بغیر کسی معاہدے کے آبنائے ہرمز کی خودمختار اتھارٹی برقرار رکھنے پر آمادہ ہوگیا ہے۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ مجوزہ معاہدے میں امریکی بحریہ کی ناکابندی ختم کرنے کی شق بھی شامل ہوسکتی ہے، جس کے تحت مفاہمتی یادداشت کے بعد 30 روز کے اندر ناکابندی مکمل طور پر ختم کی جائے گی۔
ایرانی ذرائع کے مطابق اگر امریکی ناکابندی برقرار رہی تو آبنائے ہرمز کی موجودہ صورتحال میں بھی کوئی بڑی تبدیلی نہیں آئے گی۔