ایران پر حملے۔ امریکی فوج خطے سے غائب نہیں ہوئی۔ سینٹکام
امریکہ کا میزائل سائٹس اور بارودی سرنگیں بچھانے والی کشتیوں پر کارروائی کا دعویٰ
ایران پر حالیہ حملے اس بات کی یاد دہانی ہیں کہ امریکی افواج خطے سے “غائب” نہیں ہوئیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے گزشتہ چند گھنٹوں میں ایک بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا کہ یہ واقعات گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران پیش آئے اور ان کا مقصد خطے میں موجود امریکی افواج کا تحفظ تھا۔
تاہم سینٹکام نے یہ نہیں کہا کہ امریکی فوجیوں پر براہ راست کوئی حملہ ہوا۔
امریکہ کا دعویٰ ہے کہ اس نے میزائل تنصیبات اور ان کشتیوں کے خلاف کارروائی کی جو ممکنہ طور پر سمندری بارودی سرنگیں بچھانے والی تھیں۔ امریکی حکام کے مطابق یہ اقدامات احتیاطی تدابیر کے طور پر کیے گئے تاکہ خطے میں موجود فوجیوں کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
ہم جانتے ہیں کہ امریکا اس نوعیت کی کارروائیاں پہلے بھی کر چکا ہے۔
جنگ بندی کے ابتدائی دنوں میں بھی اسی قسم کا واقعہ پیش آیا تھا۔ اس وقت امریکا نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ چونکہ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، اس لیے اسے جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار نہیں دیا جا سکتا۔
اس تازہ واقعے میں بھی امریکا نے کہا ہے کہ کوئی امریکی فوجی زخمی یا ہلاک نہیں ہوا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس مرتبہ بھی معاملہ جنگ بندی کی خلاف ورزی کی سطح تک نہیں پہنچے گا۔