امریکا نے سفارتی کوششوں کے دوران حملہ کیا، ایران جواب دے گا، ترجمان وزارت خارجہ
امریکی اقدامات عالمی قوانین اور جنگ بندی کے معاہدے کی صریح خلاف ورزی ہیں۔
فائل فوٹو
تہران:ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ امریکا نے سفارتی کوششوں کے دوران حملہ کیا، ایران جواب دے گا۔امریکا نے صوبے ہرمزگان میں جنگ بندی کی خلاف ورزی کی، ایران اپنے دفاع میں کبھی پیچھے نہیں ہٹے گا۔ دشمن کی کسی بھی جارحیت کا جواب ضرور دیں گے۔
منگل کو جاری کیے گئے ایک سرکاری بیان میں ایران کی وزارتِ خارجہ کا کہنا تھا کہ امریکی فوج نے 8 اپریل 2026 کو اعلان کردہ جنگ بندی کے بعد بھی اپنی ’غیر قانونی اور بلاجواز کارروائیاں‘ جاری رکھیں۔
بیان میں خاص طور پر گذشتہ 48 گھنٹوں کے دوران ایرانی تجارتی جہازوں کے خلاف مبینہ ’سمندری قزاقی‘ کی متعدد کارروائیوں کا حوالہ دیا گیا، جنھیں صوبہ ہرمزگان کے قریب جنگ بندی کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے۔
اسماعیل بقائی نے کہا کہ حملوں کے تمام نتائج کی ذمہ داری امریکا پر عائد ہوتی ہے، امریکا نے ایک بار پھر ثابت کیا وہ قابل اعتماد نہیں۔ اپنے شہریوں اور قومی مفادات کے تحفظ کیلئے ضروری اقدامات اٹھائیں گے۔امریکا نے 40روزہ جنگ کے دوران ایرانی شہریوں جدید ہتھیار استعمال کئے، ایئر برسٹ میزائلز سے تیزی سے ذرات نکلے،جنہوں نے پورے علاقے میں تباہی پھیلا دی، ان میزائلوں کا استعمال اسپورٹس ہال پر کیا گیا،جس میں 24شہری شہید ہوئے، امریکا کا یہ اقدام جنگی جرائم کے زمرے میں آتا ہے۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے مطابق یہ اقدامات ایسے وقت میں کیے گئے جب پاکستان کی ثالثی میں سفارتی عمل جاری ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ ان کارروائیوں سے امریکی قیادت کے ’بدنیتی پر مبنی عزائم‘ نہ صرف ایران بلکہ خطے کے عوام اور عالمی برادری کے سامنے بھی ایک بار پھر بے نقاب ہو گئے ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایران کا امریکہ کے بارے میں ’گہرا عدم اعتماد‘ اس کے سابقہ طرزِ عمل کے تناظر میں ’منطقی اور حقیقت پسندانہ‘ ہے، اور یہ کہ ایرانی موقف میدانِ جنگ، عوامی سطح اور سفارتی سطح، تینوں محاذوں پر اسی سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔
ایران نے اقوام متحدہ کے چارٹر کی شق 2(4) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکی اقدامات عالمی قوانین اور جنگ بندی کے معاہدے کی صریح خلاف ورزی ہیں۔ تہران نے ان واقعات کے تمام تر نتائج کی ذمہ داری امریکہ پر عائد کرنے کا اعلان بھی کیا۔
ایران نے خبردار کیا کہ وہ کسی بھی ’جارحانہ اقدام‘ کو بلا جواب نہیں چھوڑے گا اور اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے لیے بھرپور اقدامات کرے گا۔