اسرائیلی افواج کی جنوبی شام میں نئی دراندازی، چیک پوسٹیں قائم ، شہریوں کی تلاشی

صیہونی اہلکاروں نے کئی گھنٹوں تک وہاں سے گزرنے والے راہگیروں کو روک کر ان کی جامہ تلاشی لی اور پھر چلے گئے۔

May 31, 2026 · بام دنیا
فائل فوٹو

فائل فوٹو

دمشق : اسرائیلی افواج نے ایک بار پھر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جنوبی شام کے صوبوں قنیطرہ اور درعا کے مختلف علاقوں میں نئی دراندازی کی ہے۔ اسرائیلی اہلکاروں نے عارضی چیک پوسٹیں قائم کر کے مقامی شہریوں اور گاڑیوں کی سخت تلاشی لی اور بعد میں پیچھے ہٹ گئے۔

شام کی سرکاری نیوز ایجنسی ‘سانا’ کے مطابق اسرائیلی فوجی دستوں نے صوبہ قنیطرہ میں صیدا الجولان اور البصالی فارم کو ملانے والی سڑک پر پیش قدمی کی۔ اس دوران صیہونی اہلکاروں نے کئی گھنٹوں تک وہاں سے گزرنے والے راہگیروں کو روک کر ان کی جامہ تلاشی لی۔

دوسری جانب، ایک اور کارروائی میں اسرائیلی فوجیوں نے مغربی درعا کے علاقے یرموک بیسن میں واقع قصبے ‘معریہ’ کے مشرقی دخل پر ناکہ بندی کر دی۔ صیہونی اہلکاروں نے وہاں سے گزرنے والی نجی گاڑیوں، پبلک ٹرانسپورٹ اور مقامی رہائشیوں کی سخت چیکنگ کی۔

معریہ کے میئر موفق محمود نے میڈیا کو بتایا کہ چار اسرائیلی فوجی گاڑیاں، جن میں تقریباً 150 اہلکار سوار تھے، قصبے میں داخل ہوئیں اور مقامی ٹیلی فون ایکسچینج کے پاس چیک پوسٹ قائم کر دی۔ انہوں نے بتایا کہ صیہونی فوجیوں نے شہریوں اور گاڑیوں کی تلاشی لی، تاہم کسی گرفتاری کی اطلاع نہیں ملی اور تلاشی کے عمل کے بعد وہ علاقے سے روانہ ہو گئے۔

واضح رہے کہ شام کے جنوبی علاقوں میں اسرائیلی فوج کی جانب سے اس طرح کی دراندازی اور فضائی حملوں کا سلسلہ کافی عرصے سے جاری ہے، جس پر شامی حکومت کی جانب سے شدید احتجاج بھی کیا جاتا رہا ہے۔