ایران نے جوابی حملوں کو بین الاقوامی قانون کے تحت جائز قرار دیدیا

کسی ملک کو اپنی سرزمین دوسرے ممالک کےخلاف حملوں کے لیے استعمال نہیں ہونے دینی چاہیے

June 1, 2026 · بام دنیا

ایران نے کہا ہے کہ اس کے خلاف حملوں میں استعمال ہونے والے علاقائی فوجی اڈوں اور تنصیبات کو نشانہ بنانا اس کا قانونی حقِ دفاع ہے۔

ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کویت کی جانب سے میزائل اور ڈرون حملوں کی اطلاعات کے بعد کہا کہ ایران کو ان علاقائی “اڈوں اور اثاثوں” کے خلاف جوابی کارروائی کا حق حاصل ہے جو اس پر حملوں کے لیے استعمال کیے گئے ہوں۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر ایک بیان میں بقائی نے کہا کہ “ریاستوں پر قانونی طور پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی سرزمین یا تنصیبات کو دوسرے ممالک کے خلاف جارحیت کے لیے استعمال نہ ہونے دیں۔”

ایرانی ترجمان نے یورپی یونین پر بھی “منتخب اخلاقی غم و غصے” کا مظاہرہ کرنے کا الزام عائد کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پڑوسی ممالک میں قائم اڈوں سے امریکی حملوں کے جواب میں ایران کے حقِ دفاع کی مذمت کرنے والا یورپی یونین کا بیان “منافقانہ اور غیر ذمہ دارانہ” ہے۔

بقائی نے واضح نہیں کیا کہ وہ یورپی یونین کے کس بیان کا حوالہ دے رہے تھے، تاہم یورپی یونین کی سفارتی سروس نے چند روز قبل کویت پر مبینہ ایرانی حملوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ کویت کی خودمختاری کی خلاف ورزی ہیں اور “علاقائی سلامتی و استحکام کے لیے سنگین خطرہ” ہیں۔