نکوبار جزیرے میں آبنائے ہرمزکی طرزپر چینی ناکہ بندی کابھارتی منصوبہ تیار
11 ارب ڈالر منصوبے پر سکیورٹی اور ماحولیات کا تنازع
فائل فوٹو
بھارت کے جنوبی ترین جزیرے گریٹ نکوبار کو وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت 11 ارب ڈالر کے ایک بڑے ترقیاتی منصوبے کے تحت بحر ہند میں اہم اسٹریٹجک اور اقتصادی مرکز میں تبدیل کرنا چاہتی ہے، تاہم اس منصوبے پر ماحولیاتی تنظیموں،مقامی آبادی اور اپوزیشن کی جانب سے شدید تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
گریٹ نکوبار جزیرہ بھارتی سرزمین سے تقریباً 1600 کلومیٹر دور واقع ہے۔تھائی لینڈ، ملائیشیا اور انڈونیشیا کے ساحل اس سے زیادہ قریب ہیں۔ جزیرے کی آبادی کا تخمینہ 10 ہزار سے کم ہے۔
منصوبے کے تحت جزیرے پر ٹرانس شپمنٹ پورٹ، سول و عسکری ہوائی اڈہ، پاور پلانٹ، سیاحتی انفراسٹرکچر اور ساڑھے تین لاکھ افراد پر مشتمل ایک نئی بستی قائم کی جائے گی۔ حکومت نے ابتدائی طور پر اس منصوبے کو سمندری تجارت اور اقتصادی ترقی کے تناظر میں پیش کیا تھا، تاہم حالیہ عرصے میں اسے قومی سلامتی اور خطے میں بھارت کے اسٹریٹجک مفادات سے بھی جوڑا جا رہا ہے۔
گریٹ نکوبار آبنائے ملاکا کے قریب واقع ہے، جو عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل کے لیے اہم سمندری راستہ تصور کی جاتی ہے۔ ماہرین کے مطابق چین اپنی خام تیل کی درآمدات کا 80 فیصد اور تقریباً دو تہائی تجارت اسی راستے کے ذریعے انجام دیتا ہے، جس کے باعث یہ جزیرہ بھارت کے لیے اسٹریٹجک اہمیت رکھتا ہے۔
بھارتی بحریہ کے سابق نائب سربراہ شیکھر سنہا کے مطابق یہ جزیرہ آبنائے ملاکا سے گزرنے والی بحری سرگرمیوں کی نگرانی کے لیے اہم مقام بن سکتا ہے اور بھارت کی سمندری نگرانی کی صلاحیت میں اضافہ کر سکتا ہے۔
بھارتی حکومت نے مئی میں کہا تھا کہ گریٹ نکوبار منصوبے کا مقصد انڈمان سمندر اور جنوب مشرقی ایشیا میں بھارت کی موجودگی کو مضبوط بنانا، قومی سلامتی اور دفاعی اہداف کو تقویت دینا اور خطے کی اقتصادی ترقی کو فروغ دینا ہے۔
دوسری جانب اس منصوبے کی مقامی آبادی اور ماحولیاتی ماہرین کی جانب سے مخالفت کی جا رہی ہے۔ گریٹ نکوبار شومپن قبیلے کے چند سو افراد اور ہزاروں نیکوباری ماہی گیر باشندوں کا مسکن ہے، جو جزیرے کے قدرتی ماحول پر انحصار کرتے ہیں۔
مجوزہ منصوبہ 166.1 مربع کلومیٹر رقبے پر محیط ہے جو جزیرے کے کل رقبے کا تقریباً 16 فیصد بنتا ہے، جبکہ اس زمین کا نصف حصہ قبائلی ریزرو علاقوں سے متصل ہے۔ فروری 2024 میں نسل کشی کے 39 ماہرین نے بھارتی صدر دروپدی مرمو کو خط لکھ کر خبردار کیا تھا کہ یہ منصوبہ شومپن قبیلے کے لیے ’’سزائے موت‘‘ ثابت ہو سکتا ہے۔
بھارتی حکومت کے مطابق منصوبے کے لیے تقریباً 9 لاکھ 64 ہزار درخت کاٹے جائیں گے جبکہ آئندہ تین دہائیوں میں ساڑھے تین لاکھ افراد کو جزیرے میں آباد کرنے کا منصوبہ ہے، جس سے آبادی میں تقریباً 4000 فیصد اضافہ ہوگا۔
ماحولیاتی کارکنوں کا کہنا ہے کہ بڑے پیمانے پر جنگلات کی کٹائی، ساحلی تبدیلیوں اور تعمیراتی سرگرمیوں سے جزیرے کے نازک ماحولیاتی نظام کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔ جزیرہ زلزلوں کے حوالے سے زون فائیو میں واقع ہے، جو بلند ترین خطرے کی درجہ بندی ہے۔
بھارتی اپوزیشن رہنما راہول گاندھی نے حال ہی میں جزیرے کا دورہ کیا اور متاثرہ افراد سے ملاقات کے بعد کہا کہ مقامی برادریوں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے اور ترقی کے نام پر تباہی مسلط کی جا رہی ہے۔ انہوں نے اس منصوبے کو قدرتی اور قبائلی ورثے کے خلاف سنگین اقدام قرار دیا۔
2004 کے سونامی کے دوران گریٹ نکوبار کے جنوبی حصے کی زمین تقریباً 4.25 میٹر نیچے دھنس گئی تھی، جس سے اندرا پوائنٹ کے اطراف ساحلی علاقے زیر آب آ گئے تھے۔
جزائر پر دو دہائیوں سے تحقیق کرنے والے ماہر منیش چاندی کا کہنا ہے کہ منصوبے کا بنیادی مقصد تجارتی مرکز قائم کرنا ہے جبکہ قومی سلامتی کا بیانیہ بعد میں سامنے آیا۔ ان کے مطابق اس منصوبے کے نتائج مشکوک اور اثرات تباہ کن ہو سکتے ہیں۔
تاہم بعض ماہرین کا خیال ہے کہ بدلتی ہوئی عالمی جغرافیائی سیاست کے تناظر میں بھارت کے لیے اپنی جغرافیائی اہمیت سے فائدہ اٹھانا ضروری ہے۔ ان کے مطابق گریٹ نکوبار کی ترقی سے بحر ہند اور انڈو پیسیفک خطے میں بھارتی نگرانی اور دفاعی صلاحیت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
سابق بحری افسر شیکھر سنہا نے اس خیال کو مسترد کیا کہ بھارت مستقبل میں آبنائے ملاکا کو چین کے خلاف بندش کے طور پر استعمال کر سکتا ہے۔ ان کے مطابق آبنائے ملاکا انڈونیشیا کے زیر اختیار ہے اور اس سمندری راستے میں امن بھارت کی معیشت کے لیے بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا دیگر ممالک کے لیے۔
ا
نہوں نے کہا کہ جزیرے کی ترقی بھارت کے لیے اسٹریٹجک فائدہ ضرور بن سکتی ہے، تاہم ناقدین اب بھی اس منصوبے کی لاگت اور ماحولیاتی اثرات پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔