عمران خان کا صرف میڈیکل چیک اپ ہوگا، اسپتال منتقلی نہیں- صحافیوں کے دعوے
عمران خان کا علاج اور اہل خانہ سے ملاقات ان کا قانون اور آئین کے مطابق مکمل حق ہے ، تجزیہ کار
فائل فوٹو
اسلام آباد: بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کا علاج اور اہلِ خانہ سے ملاقاتوں کے معاملے پر سپریم کورٹ میں ہونے والی حالیہ سماعت اور ممکنه احکامات کے بعد سیاسی و صحافتی حلقوں میں ایک نیا بحث و مباحثہ چھڑ گیا ہے۔
صحافیوں اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے ک ہانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کا صرف میڈیکل چیک اپ ہوگا، اسپتال منتقلی نہیں۔
اینکر اور مبصر عمر دراز گوندل نے عدالتی فیصلہ کی تعمیل کے حوالے سے شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے۔ ان کے مطابق بعض مخصوص حلقوں کی جانب سے سوشل میڈیا پر یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ تحریری حکم نامہ مختلف ہو سکتا ہے یا سپریم کورٹ کے احکامات کے باوجود عمران خان کو اڈیالہ جیل سے ہسپتال منتقل نہیں کیا جائے گا۔ عمر دراز گوندل کا کہنا تھا کہ اگر اعلٰی ترین عدالت کے احکامات پر عملدرآمد نہیں ہوتا تو اس میں کوئی حیرت کی بات نہیں ہوگی، کیونکہ ماضی میں بھی انتخابات سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلوں پر عمل نہ ہونے کی مثالیں موجود ہیں۔
دوسری جانب معروف صحافی اور قانونی تجزیہ کار منیب فاروق نے عدالتِ عظمیٰ کی کارروائی کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان کا علاج اور اہل خانہ سے ملاقات ان کا قانون اور آئین کے مطابق مکمل حق ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آج کی سماعت انتہائی حوصلہ افزا رہی ہے، تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ عدالت کا تحریری حکم نامہ جلد سے جلد سامنے آنا چاہیے تاکہ کسی قسم کا ‘سرپرائز’ نہ ملے اور سماعت کے بعد جو امید پیدا ہوئی ہے وہ قائم رہ سکے۔
مجموعی طور پر، عدالتِ عظمیٰ کے شفاہی احکامات اور سماعت کے بعد ایک طرف جہاں ریلیف کی امید ظاہر کی جا رہی ہے، وہیں فیصلے کے تحریری متن اور اس پر عملدرآمد کے حوالے سے خدشات بھی برائے نام نہیں ہیں۔ اب تمام تر نظریں سپریم کورٹ کے تفصیلی تحریری حکم نامے اور انتظامیہ کی جانب سے اس کی تعمیل پر ٹکی ہوئی ہیں۔