امریکی افواج نے بحرِہند میں ایک آئل ٹینکر کو تحویل میں لیا۔پینٹاگون
تہران نے بعض جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے سے روکنے کے لیے فائرنگ بھی کی
امریکی میڈیا نے پینٹاگون کے نئے ضوابط مسترد کر دیے
امریکی فوج نے اعلان کیا ہے کہ بغیر پرچم والے ’ڈاوینا‘ نام ایک ایسے تیل بردار بحری جہاز کو بحر ہند میں روک کر تلاشی لی گئی جس پر پابندیاں ہیں۔
امریکہ نے ایران کی بحری تجارت پر محاصرہ نافذ کر رکھا ہے اور تہران نے بعض جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے سے روکنے کے لیے ان پر فائرنگ بھی کی۔
امریکی افواج نے حالیہ مہینوں میں بحرِ ہند میں متعدد تجارتی جہازوں اور آئل ٹینکروں کو روکا ہے۔
جہازوں کی نگرانی کے ڈیٹا کے مطابق تیل بردار بحری جہاز ڈاوینا 20 لاکھ بیرل تک خام تیل لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے، اور ایرانی تیل کی تجارت میں استعمال ہونے پر اکتوبر 2024 میں اس پر امریکہ نے پابندیاں لگائی تھیں۔
بحری نگرانی کے نظام میرین ٹریفک کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ جہاز لینور کے نام سے بھی جانا جاتا ہے اور اسے آخری بار پانچ جون کو سری لنکا کے جنوبی ساحل کے قریب دیکھا گیا تھا۔
شپنگ کے اعداد و شمار یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ پکڑے جانے کے وقت اس بحری جہاز میں تیل کی کھیپ موجود تھی۔