85 سالہ بزرگ کو 35 سال بعد قتل کے جرم میں سزا ، بھارتی عدالتی نظام پر سوالیہ نشان

دیپ رائے کو 3 سال قید اور 25 ہزار بھارتی روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی۔

June 6, 2026 · بام دنیا
فوٹو بھارتی میڈیا

فوٹو بھارتی میڈیا

نئی دہلی: بھارتی ریاست بہار سے تعلق رکھنے والے 85 سالہ معمر شخص دیپ رائے کو عدالت نے قتل اور آرمز ایکٹ کے مقدمے میں قصوروار قرار دیتے ہوئے 3 سال قید اور 25 ہزار بھارتی روپے جرمانے کی سزا سنا دی ہے۔ تاہم، اس فیصلے نے ایک بار پھر بھارتی عدالتی نظام میں ہونے والی غیر معمولی تاخیر اور سست روی کو بے نقاب کر دیا ہے۔

مقدمے کی طویل سماعت کے بعد جب حتمی فیصلہ سنانے کا وقت آیا، تو 85 سالہ دیپ رائے انتہائی لاغر اور کمزور حالت میں عدالت پہنچے۔ بڑھاپے اور بیماری کے باعث ان کی کمر جھکی ہوئی تھی اور وہ دو افراد کے سہارے کے بغیر چند قدم چلنے سے بھی قاصر تھے۔

دورانِ سماعت دیپ رائے کے وکیل نے ان کی دگرگوں جسمانی حالت اور طویل عمر کا حوالہ دیتے ہوئے عدالت سے رحم کی اپیل کی اور سزا میں نرمی کی درخواست کی۔

عدالت نے ملزم کی شدید جسمانی معذوری اور کمزوری کو تسلیم کرتے ہوئے دفاعی وکیل کی درخواست کو جزوی طور پر قبول کیا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں ریمارکس دیے کہ ملزم جسمانی طور پر شدید کمزوری کا شکار ہے اور سخت قید کی صعوبتیں برداشت کرنے کی سکت نہیں رکھتا۔ تاہم چونکہ قتل جیسا سنگین جرم ثابت ہو چکا ہے، اس لیے سزا دینا قانوناً لازم ہے۔ چنانچہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر انہیں کم سے کم مدت (3 سال) کی سزا سنائی جا رہی ہے۔

یہ معاملہ بھارت میں کوئی پہلا یا انوکھا واقعہ نہیں ہے۔ بھارتی عدالتی نظام میں زیر التوا مقدمات کی بھرمار کے باعث ایک عام کیس کا فیصلہ آنے میں بھی 35 سے 40 سال کا عرصہ لگ جانا معمول بن چکا ہے۔