گلگت بلتستان انتخابات: ابتدائی نتائج میں پیپلز پارٹی کو برتری
سلم لیگ (ن)، مجلس وحدت المسلمین، استحکام پاکستان پارٹی اور آزاد امیدوار بھی مختلف نشستوں پر مضبوط پوزیشن میں دکھائی دے رہے ہیں
گلگت بلتستان اسمبلی کے عام انتخابات کے لیے پولنگ مکمل ہونے کے بعد ووٹوں کی گنتی کا عمل جاری ہے اور مختلف حلقوں سے ابتدائی، غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج موصول ہو رہے ہیں۔ اب تک سامنے آنے والے رجحانات کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کئی حلقوں میں نمایاں برتری حاصل کیے ہوئے ہے، جبکہ مسلم لیگ (ن)، مجلس وحدت المسلمین، استحکام پاکستان پارٹی اور آزاد امیدوار بھی مختلف نشستوں پر مضبوط پوزیشن میں دکھائی دے رہے ہیں۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق گلگت ڈویژن کے متعدد حلقوں میں پیپلز پارٹی کے امیدوار آگے ہیں۔ گلگت شہر کے حلقہ ایک میں امجد حسین جبکہ حلقہ دو میں جمیل احمد کو برتری حاصل ہے۔ گلگت تین سے مسلم لیگ (ن) کے ڈاکٹر محمد اقبال نمایاں ہیں، جبکہ نگر کے ایک حلقے میں پیپلز پارٹی اور دوسرے میں مجلس وحدت المسلمین کے امیدوار آگے چل رہے ہیں۔ ہنزہ میں بھی پیپلز پارٹی کے امیدوار کو ابتدائی نتائج میں سبقت حاصل ہے۔
بلتستان ڈویژن میں بھی دلچسپ مقابلہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ اسکردو کے مختلف حلقوں میں پیپلز پارٹی اور مجلس وحدت المسلمین کے امیدوار نمایاں پوزیشن میں ہیں، جبکہ ایک حلقے میں مسلم لیگ (ن) کے امیدوار کو برتری حاصل ہے۔ شگر سے بھی پیپلز پارٹی کے امیدوار ابتدائی نتائج میں آگے دکھائی دے رہے ہیں۔
استور اور دیامر کے حلقوں میں پیپلز پارٹی، استحکام پاکستان پارٹی اور آزاد امیدواروں کے درمیان مقابلہ جاری ہے۔ بعض حلقوں میں استحکام پاکستان پارٹی کے امیدوار سبقت لیے ہوئے ہیں جبکہ ایک نشست پر آزاد امیدوار کو برتری حاصل ہے۔
غذر اور گانچھے کے بیشتر حلقوں میں پیپلز پارٹی مضبوط پوزیشن میں نظر آ رہی ہے۔ تاہم چند حلقوں میں مسلم لیگ (ن) اور آزاد امیدوار بھی مقابلے میں موجود ہیں۔
اب تک سامنے آنے والے نتائج ووٹوں کی مکمل گنتی سے قبل کے ابتدائی رجحانات ہیں اور ان کی بنیاد پولنگ اسٹیشنوں سے موصول ہونے والے فارم 45 پر رکھی گئی ہے۔ الیکشن حکام کی جانب سے حتمی اور سرکاری نتائج فارم 47 کے اجرا کے بعد مرحلہ وار جاری کیے جائیں گے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق ابتدائی رجحانات سے ووٹرز کے عمومی رجحان کا اندازہ ضرور ہوتا ہے، تاہم حتمی تصویر مکمل نتائج سامنے آنے کے بعد ہی واضح ہوگی۔