جوائنٹ ایکشن کمیٹی سے معاہدے پر عملدرآمد کیا گیا، انتشار کی اجازت نہیں دی جا سکتی: طارق فضل چوہدری
مہاجرین کی مخصوص نشستوں سے متعلق مطالبات کے حوالے سے عدالتی فیصلہ بھی موجود ہے،
وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر میں جمہوری اور انتخابی عمل کو متاثر کرنے کی کسی بھی کوشش کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کی تمام شقوں پر عملدرآمد کیا جا چکا ہے، اس کے باوجود بعض عناصر کی جانب سے صورتحال کو کشیدہ بنانے کی کوشش کی گئی۔
اسلام آباد میں سیاسی رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے طارق فضل چوہدری نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر معاہدے پر عملدرآمد کی نگرانی کے لیے ایک خصوصی کمیٹی بھی تشکیل دی گئی تھی تاکہ تمام معاملات طے شدہ اصولوں کے مطابق آگے بڑھ سکیں۔
انہوں نے کہا کہ مہاجرین کی مخصوص نشستوں سے متعلق مطالبات کے حوالے سے عدالتی فیصلہ بھی موجود ہے، جس کے مطابق ان نشستوں میں کسی قسم کی تبدیلی آئینی اور قانونی طریقہ کار کے بغیر ممکن نہیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ بڑے ترقیاتی منصوبوں، خصوصاً انفراسٹرکچر اور ٹنلز کی تعمیر جیسے منصوبوں کی تکمیل میں وقت درکار ہوتا ہے، تاہم حکومت اس امر کے لیے کوشاں ہے کہ ان منصوبوں میں مقامی آبادی کو زیادہ سے زیادہ روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں۔
طارق فضل چوہدری نے واضح کیا کہ قانون کو ہاتھ میں لینے یا عوامی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور کشمیر کے درمیان مضبوط تعلقات کو کمزور کرنے کی ہر کوشش ناکام ہوگی۔
اس موقع پر سابق وزیراعظم آزاد کشمیر سردار عتیق احمد خان نے بھی خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اور جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے درمیان مذاکرات نیک نیتی کے ساتھ کیے گئے تھے، جبکہ پاکستان مسلسل کشمیری عوام کے حق خودارادیت کی حمایت کرتا آ رہا ہے۔
سردار عتیق احمد خان کا کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے پاکستان کا مؤقف عالمی سطح پر پہلے کے مقابلے میں زیادہ مضبوط اور واضح انداز میں پیش کیا جا رہا ہے۔