لبنان نے اسرائیل کو مذاکرات کی پیشکش کر دی
جنگ نہیں، بات چیت ہی سلامتی کی ضمانت ہے۔ صدر جوزف عون
لبنان کے صدر جوزف عون نے اسرائیل کو مذاکرات کی پیشکش کرتے ہوئے کہا ہے کہ دیرپا امن اور استحکام کا راستہ جنگ نہیں بلکہ بات چیت سے نکلتا ہے۔
ایک امریکی ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں صدر جوزف عون نے کہا کہ عسکری کارروائیاں اسرائیلی عوام کو پائیدار تحفظ اور سلامتی فراہم نہیں کر سکتیں۔ انہوں نے کہا کہ لبنان مذاکرات کے لیے تیار اور سنجیدہ ہے، اگر اسرائیل بھی آمادہ ہو تو دونوں فریق مذاکرات کی میز پر آ سکتے ہیں۔
لبنانی صدر نے خبردار کیا کہ فوجی طاقت کے استعمال سے خطے میں امن قائم نہیں ہو سکتا اور نہ ہی اس کے ذریعے مستقل سلامتی حاصل کی جا سکتی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ جنگ کے خاتمے اور بنیادی نکات پر پیش رفت سے قبل وہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سے ملاقات نہیں کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ مجوزہ معاہدہ عدم جارحیت پر مبنی ہوگا، اسے مکمل امن معاہدہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔
صدر عون نے کہا کہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان جاری دشمنی کا خاتمہ ضروری ہے اور ایک منصفانہ معاہدہ خطے میں پائیدار امن کی بنیاد بن سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ لبنان 2002 کی عرب امن تجویز کے مطابق آگے بڑھے گا، جس میں فلسطینی ریاست کے قیام اور مقبوضہ عرب علاقوں سے اسرائیلی انخلا کے بدلے عرب ممالک اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی بات کی گئی تھی۔
لبنانی صدر کے مطابق امریکہ کی ثالثی میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان براہِ راست مذاکرات جاری ہیں جن کا مقصد مکمل جنگ بندی اور کشیدگی کا خاتمہ ہے۔